حصہ
یسوع کو ذاتی طور پر جاننے کا دعوت نامہ
6 منٹFHD
Easter21 از 21باب 21 از 21
یسوع کو ذاتی طور پر جاننے کا دعوت نامہ
یسوع دو اور آدمیوں کے درمیان لٹکایا جاتا ہے۔ اسکے شاگرد لاچار کھڑے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔ ان دو میں سے ایک آدمی نے یسوع سے دریافت کیا کہ کیا وہ مسیحا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خود کو بھی بچا اور ہمیں بھی بچا۔ دوسرا آدمی اس پہلے والے کو جواب دیتا ہے کہ وہ بھی اسی سزا کو بھگت رہا ہے گسے وہ بھگت رہے تھے لیکن یسوع بے گناہ تھا۔ اس نے یسوع سے درخواست کی کہ جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے بھی یاد کرنا۔ یسوع نے اس سے وعدہ کیا کہ تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔
سوالاتمتعلقہ سوالات
اپنا سوال پوچھیںبائبل اقتباسات
شیئر کریںمتن
Urdu (اردو)
انبیائے کرام کی معرفت اللہ تعالےٰ نے فرمایا
کہ وہ نسل آدم کے گناہوں کی معافی کے لئے ایک مسیحا بھیجے گا۔
المسیح کی زندگی سے ظاہر ہوتا ہے
کہ وہ نجات دہندہ آپ ہیں۔
جسے اللہ نے دُنیا میں بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔
حضرت یسعیاہ علیہ السلام نے فرمایا تھا
"ایک کنواری بی بی امید سے ہوگی اور ایک بیٹے کو جنم دے گی۔"
اور ایسا ہی ہوا۔
حضرت مریم طاہرہ جو کہ ابھی کنواری تھیں
خدا کی قدرت سے امید سے ہوئیں۔
اور اُن سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی۔
کلام اللہ میں آیا ہے کہ سب انسان گناہ گار ہیں
اور گناہ کا انجام موت ہے۔
گناہ گار انسان اللہ پاک کی قربت میں نہیں رہ سکتے۔
لوگوں نے حضرت مسیح میں اللہ کی قدرت اور اس کی ذات کو دیکھا۔
آپ نے لوگوں کو شفا بخشی۔ اُن کے گناہ معاف فرمائے۔
اور اُن سے وعدہ فرمایا کہ تُم ہمیشہ میرے ساتھ جنت میں رہو گے۔
حضرت عیسیٰ المیسح نے رضا کارانہ طور پر
نسلِ انسانی کے گناہوں کے لئے اپنی جان قربان کردی۔
مرنے کے بعد آپ کا زندہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے
کہ آپ کی قدرت کے آگے موت بے بس ہے۔
حضرت عیسیٰ المسیح نے فرمایا
کہ "مجھے اپنی جان دے دینے اور پھر لے لینے کا بھِی اختیار ہے۔"
عیسیٰ المسیح کی زندگی بالکل ویسی تھی،
جیسی انبیاء کرام نے پیش گوئی کی تھی۔
آپ کی زندگی سے یہ ثابت ہو گیا
کہ ان انبیاء پر نازل ہونے والا کلام برحق اور لاتبدیل ہے۔
انبیاء کرام نے فرمایا کہ کلام اللہ ہر عیب سے پاک اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔
حضرت عیسیٰ کلامُ اللہ ہیں اور آپ کی ذات میں اللہ نے خود کو دنیا پر ظاہر کیا ہے۔
ابتدا میں اللہ تعالےٰ نے مرد و زن یعنی حضرت آدم اور بی بی حوا کو پیدا کیا
تاکہ وہ اس کی قدرت سے لطف اندوز ہو سکیں۔
لیکن انہوں نے اللہ پر بھروسہ نہ کیا اور حکم عدولی کی۔
یہی وجہ تھی کہ وہ اللہ تعالےٰ کی حضوری میں مزید نہ رہ سکے۔
کلام اللہ میں آیا ہے کہ سب انسان گناہ گار ہیں۔
اور گناہ کا انجام موت ہے۔
گناہ گار انسان خدائے قدوس کی قربت میں نہیں رہ سکتے۔
جس طرح اللہ نے ایک مینڈھا مہیا کیا
کہ ابراہیم کے بیٹے کی جگہ قربان ہو،
اُسی طرح اس نے حضرت المسیح کو اس دنیا میں بھیجا
کہ نسلِ آدم کی جگہ قربان ہو۔
آپ کی زندگی، موت اور جی اُٹھنے کی وجہ سے ایمان لانے والوں
اور خدائے قدوس کے درمیان ٹوٹا ہوا رشتہ بحال ہوگیا۔
حضرت پطرس نے فرمایا
کہ حضرت عیسیٰ المسیح وہ واحد شخصیت ہیں جن کے متعلق سب انبیاء نے فرمایا
ہر ایمان لانے والا گناہوں سے معافی پائے گا۔
حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے والے ہمیشہ اللہ تعالےٰ کی قربت میں رہیں گے۔
جی اٹھنے کے بعد مسیحا نے اپنے شاگردوں سے فرمایا
کہ ساری قوموں میں میرے نام سے تبلیغ کرو۔
کہ اللہ تعالےٰ ان سب کے گناہ معاف فرمائے گا،
جو میرے مرنے اور جی اُٹھنے پر ایمان لائیں گے۔
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں اللہ تعالےٰ کا روح پاک بھیجوں گا
وہ میرے شاگردوں کے ساتھ رہے گا۔
اور اللہ تعالےٰ کی راہ پر چلنے کی توفیق بخشے گا۔
ایک گناہ گار عورت جب توبہ کر کے آپ پرایمان لے آئی،
تو عیسیٰ المیسح نے اس سے فرمای: "تمہارے گناہ معاف ہوئے۔"
کیونکہ تم نے مجھ پر ایمان لا کر نجات پائی ہے۔
حضرت عیسی نے فرمایا کہ معافی یافتہ لوگ ہی اللہ تعالےٰ کو سچے دل سے پیار کرتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ المسیح نے لوگوں کو دعوت دی کہ میری پیروی کرو۔
جو لوگ حضرت عیسیٰ المسیح کی پیروی کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں،
وہ ان کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار دعا میں کچھ اس طرح کرتے ہیں۔
آسمانی باپ تو صادق ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے ایسے پیار کیا
جیسے باپ کرتا ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ میں نے تیری نافرمانی کر کے گناہ کیا۔
تیرا شکر کہ تو نے عیسیٰ المسیح کو بھیجا
جنہوں نے میرے گناہوں کی خاطر اپنی جان صلیب پر قربان کردی۔
اور پھر مردوں میں سے جی اٹھے۔
میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے گناہوں کی سزا اپنے اوپر لے لی۔
میں تیری راہ پر چلنا چاہتا ہوں،
اور عیسیٰ المسیح کو اپنا مولا اور نجات دہندہ تسلیم کرتا ہوں۔
میں تیرا شکرکرتا ہوں کہ تو نے میرے گناہ معاف کردیئے،
اور میرے لئے جنت کا دروازہ کھول دیا ہے
کہ میں ہمیشہ تیرے ساتھ رہ سکوں۔
اے باپ! مجھے اپنا روحِ پاک بخش دے جو میرے ساتھ رہے۔
اور تیری راہ دکھائے۔
تیرا روح پاک مجھے ہمت دے کہ میں اپنے سارے دل سے تجھے پیار کروں
اور ایسی زندگی گزاروں جو تجھے پسند ہے۔
دعا مانگتا ہوں، اے باپ کہ اس دنیا کا ہر انسان تیری حمد و ثنا کرے۔
آمین۔ ثم آمین۔
حضرت عیسیٰ یعنی یسوع المسیح نے فرمایا
کہ میں اپنے لوگوں کو جانتا ہوں۔ وہ میری آواز سنتے اور میری پیروی کرتے ہیں۔
عیسیٰ کے پیروکار ایک دوسرے سے رفاقت رکھتے
اور انجیل کا ہر روز مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ آپ کی سنت پر چلتے
اور آپ کی محبت کا دوسروں کو بیان کرتے ہیں۔
عیسیٰ المسیح روح پاک کے وسیلے سے اپنے پیروکاروں کی مدد فرماتے
اور انہیں مضبوط کرتے ہیں۔
عیسیٰ المسیح کے پیروکار یہ بات یاد رکھتے ہیں
کہ جب آپ مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد بادلوں پر جارہے تھے
تو آپ نے اپنے پیروکاروں سے فرمایا تھا
کہ "اللہ تعالےٰ نے آسمان اور زمین کا کُل اختیار مجھے بخش دیا ہے
اور میں دُنیا کے آخر تک تمہارے ساتھ ہوں۔"