یسوع کا مذاق اڑایا جاتا اور سوال کھڑے لئے جاتے ہیں
یسوع·46 از 61کلپ 46 از 61
یسوع کا مذاق اڑایا جاتا اور سوال کھڑے لئے جاتے ہیں
یسوع دو اور آدمیوں کے درمیان لٹکایا جاتا ہے۔ اسکے شاگرد لاچار کھڑے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔ ان دو میں سے ایک آدمی نے یسوع سے دریافت کیا کہ کیا وہ مسیحا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خود کو بھی بچا اور ہمیں بھی بچا۔ دوسرا آدمی اس پہلے والے کو جواب دیتا ہے کہ وہ بھی اسی سزا کو بھگت رہا ہے گسے وہ بھگت رہے تھے لیکن یسوع بے گناہ تھا۔ اس نے یسوع سے درخواست کی کہ جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے بھی یاد کرنا۔ یسوع نے اس سے وعدہ کیا کہ تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔
سوالاتمتعلقہ سوالات
اپنا سوال پوچھیںبائبل اقتباسات
شیئر کریںThe men who were holding Jesus began to mock Him and beat Him. They blindfolded Him and kept demanding, “Prophesy! Who hit You?” And they said many other blasphemous things against Him. At daybreak the council of the elders of the people, both the chief priests and scribes, met together. They led Jesus into their Sanhedrin and said, “If You are the Christ, tell us.” Jesus answered, “If I tell you, you will not believe. And if I ask you a question, you will not answer. But from now on the Son of Man will be seated at the right hand of the power of God.” So they all asked, “Are You then the Son of God?” He replied, “You say that I am.” “Why do we need any more testimony?” they declared. “We have heard it for ourselves from His own lips.”
Berean Standard Bible
Public Domain
مزید پڑھیں...