یسوع·61 ابواب

یسوع دو اور آدمیوں کے درمیان لٹکایا جاتا ہے۔ اسکے شاگرد لاچار کھڑے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔ ان دو میں سے ایک آدمی نے یسوع سے دریافت کیا کہ کیا وہ مسیحا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خود کو بھی بچا اور ہمیں بھی بچا۔ دوسرا آدمی اس پہلے والے کو جواب دیتا ہے کہ وہ بھی اسی سزا کو بھگت رہا ہے گسے وہ بھگت رہے تھے لیکن یسوع بے گناہ تھا۔ اس نے یسوع سے درخواست کی کہ جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے بھی یاد کرنا۔ یسوع نے اس سے وعدہ کیا کہ تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔

اپنا سوال پوچھیں

بائبل اقتباسات

شیئر کریں
مفت وسائل

کیا آپ بائبل کو مزید گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں؟

ہماری بائبل اسٹڈی میں شامل ہوں

متن

Urdu (اردو)
‏اللہ تعالےٰ پاک اور عظیم ہستی ہے۔‏ ‏اُس نے ابتدا میں ہر چیز اپنے کلام کے وسیلے‏ ‏سے خلق فرمائی۔‏ ‏جب ہم زمین و اسمان پر نگاہ ڈالتے ہیں،‏ ‏تو رب العالمین کی حمد کرتے ہیں،‏ ‏جو رحمان و رحیم ہے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ کی پیدا کردہ‏ ‏ہرایک چیز اچھی تھی،‏ ‏ہر چیز اللہ تبارک و تعالےٰ کی عظمت، بُزرگی‏ ‏اور قُدرت ظاہر کرتی تھی۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے پہلے قسم قسم کے پودے اور‏ ‏حیوانات پیدا کئے۔‏ ‏اس کے بعد خالق کائنات نے زمین کی خاک سے‏ ‏دنیا کے سب سے پہلے انسان کا پتلا بنا کر‏ ‏اُس میں رُوح پھونکی،‏ ‏تو وہ پتلا جیتا جاگتا انسان بن گیا۔‏ ‏یہ پہلے انسان آدم علیہ السلام تھے۔‏ ‏پھر خالق کائنات نے حضرت آدم پر‏ ‏گہری نیند بھیجی‏ ‏اور ان کی پسلیوں میں سے ایک نکال‏ ‏کر بی بی حوا کو بنایا۔‏ ‏اللہ تعالے نے حضرت آدم اور بی بی حوا کو‏ ‏اپنی شبیہ پر پیدا کیا‏ ‏اور ان کو ایک خوبصورت باغ،‏ ‏باغِ عدن میں رکھا۔‏ ‏تاکہ اللہ تعالے کی قربت‏ ‏میں مسرت اور شادمانی سے رہیں۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے حضرت آدم سے فرمایا‏ ‏باغ کے سب درختوں کا پھل تم کھا سکتے ہو‏ ‏لیکن شجر ممنوعہ کا پھل کھایا تو مرجاؤ گے۔‏ ‏ایک دن شیطان نے بی بی حوا کو‏ ‏وہ پھل کھانے کے لئے بہکایا۔‏ ‏یوں انہوں نے وہ پھل توڑ کر پہلےخود کھایا‏ ‏اور پھر حضرت آدم کو دیا۔‏ ‏انہوں نے اللہ تعالےٰ کی نافرمانی کی۔‏ ‏جس وجہ سے اللہ تعالے کے ساتھ‏ ‏ان کا تعلق ٹوٹ گیا۔‏ ‏کیونکہ اللہ تعالےٰ پاک ہے‏ ‏اور گنہگار اس کی قربت میں نہیں رہ سکتے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے حضرت آدم اور بی بی حوا‏ ‏کو باغِ عدن سے نکال دیا۔‏ ‏ان کی نافرمانی ان کے اور تمام نسلِ انسانی‏ ‏کے لئے موت کا پھندہ بن گئی۔‏ ‏لیکن غفور و رحیم رب نے‏ ‏نسلِ آدم کو اپنی رفاقت میں‏ ‏بحال کرنے کا منصوبہ بنایا۔‏ ‏تاکہ انسان پھر سے اُس کی قربت میں آ جائے۔‏ ‏کلام مقدس میں اللہ تعالےٰ نے بنی نوع انسان‏ ‏کے گناہوں کی معافی‏ ‏اور اپنے ساتھ انسان کی‏ ‏رفاقت بحال کرنے کے منصوبے کو ظاہر کیا ہے۔‏ ‏اس منصوبے کا کچھ حصہ اللہ تعالے نے‏ ‏حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ظاہر کیا۔‏ ‏ابراہیم اللہ پر ایمان لائے اور‏ ‏اس کی عبادت کرتے رہے۔‏ ‏پروردگار عالم نے حضرت ابراہیم کو‏ ‏برکت بخشنے‏ ‏اور ان کے وسیلے سے دنیا کی سب‏ ‏قوموں کو برکت دینے کا وعدہ کیا۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے یہ بھی وعدہ کیا کہ ابراہیم‏ ‏کی اولاد کو اتنا بڑھاؤں گا‏ ‏کہ ریت کے ذروں اور آسمان کے ستاروں کی‏ ‏مانند گننا مشکل ہو جائے گا۔‏ ‏ابراہیم نے اپنے رب کے وعدہ پر بھروسہ کیا۔‏ ‏اس وجہ سے اللہ تعالےٰ نے انہیں اپنے‏ ‏نیک بندوں میں شامل کیا‏ ‏اور انہیں خلیل اللہ کا لقب عطا فرمایا۔‏ ‏ایک دفعہ اللہ تعالےٰ نے حضرت ابراہیم کو‏ ‏آزمانے کے لئے ایک حکم دیا۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے آپ سے فرمایا‏ ‏کہ اپنے عزیز فرزند کو میری راہ میں‏ ‏قربان کردو۔‏ ‏حضرت ابراہیم جانتے تھے کہ‏ ‏اسی بیٹے سے میری نسل چلے گی،‏ ‏پھر بھِی انہوں نے رب کریم پر بھروسہ کیا‏ ‏اور اس کے حکم پر عمل کیا۔‏ ‏وہ اپنے بیٹے کو اللہ تعالےٰ کے حکم پر‏ ‏قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔‏ ‏لیکن جب حضرت ابراہیم نے چھری اٹھائی‏ ‏تو اللہ تعالےٰ نے فرمایا‏ ‏ابراہیم بچے کو نقصان نہ پہنچانا۔‏ ‏میں جانتا ہوں کہ تم میرا حکم مانتے‏ ‏اور ڈرتے ہو۔‏ ‏تب حضرت ابراہیم نے قریب ہی‏ ‏ایک مینڈھا دیکھا‏ ‏جس کے سینگ ایک جھاڑی میں پھنسے ہوئے تھے۔‏ ‏آپ نے اللہ تعالےٰ کی طرف سے‏ ‏مہیا کردہ مینڈھے کو‏ ‏اپنے بیٹے کے بدلے قربان کردیا۔‏ ‏خدائے کریم نے ابراہیم کے بیٹے کے بدلے میں‏ ‏مینڈھا قربان ہونے کے لئے مہیا کر کے‏ ‏انسانوں کے لئے اپنی‏ ‏عظیم محبت کا اظہار کیا۔‏ ‏ویسی ہی محبت جیسی ایک باپ اپنی‏ ‏اولاد سے کرتا ہے۔‏ ‏یہ واقعہ اللہ تعالےٰ کی طرف سے بنی نوع‏ ‏انسان کے گناہوں کی معافی کے لیے‏ ‏ایک قربانی کے انتظام کو ظاہر کرتا ہے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے فرمایا کہ وہ ایک معصوم‏ ‏شخصیت کو بھیجے گا‏ ‏کہ وہ نسل آدم کے گناہوں کے عوض قربان ہو‏ ‏اور باغِ عدن میں ہونے والی نا فرمانی کا‏ ‏احساسِ شرمندگی دور کردے۔‏ ‏وہ معصوم ہستی اس عظیم قربانی کے وسیلے سے‏ ‏ایمان لانے والوں کا رشتہ‏ ‏پروردگار سے جوڑ دے گا۔‏ ‏تاکہ انسان پھر سے اس کی قربت میں رہیں۔‏ ‏انبیائے کرام نے اس ہستی کو مسیحا کہہ کر‏ ‏مخاطب کیا ہے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ اس مسیحا کو بھیجے گا‏ ‏کہ وہ لوگوں کو ان کے گناہوں سے نجات بخشے۔‏ ‏اور خدا کی نمائندگی کرنے والے کی‏ ‏حیثیت سے ان کا حاکم ہو۔‏ ‏آمد مسیحا سے کئی سو سال پہلے‏ ‏انبیاء نے فرمایا تھا‏ ‏کہ آنے والا مسیحا کیا کرے گا؟‏ ‏اور اس کے ساتھ کیا ہوگا؟‏ ‏داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ‏ ‏اللہ تعالےٰ مسیحا سے کہے گا‏ ‏"تم میرے فرزند ہو۔"‏ ‏آپ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ نعوذ باللہ‏ ‏وہ اللہ تعالےٰ کے جسمانی بیٹے ہوں گے‏ ‏کیونکہ کلام اللہ میں آیا ہے کہ‏ ‏وہ ازل سے کلمتہ اللہ ہیں۔‏ ‏آپ کی ولادت ایک کنواری بی بی‏ ‏حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے ہوگی۔‏ ‏انبیاء کرام نے جب "ابن اللہ" کی‏ ‏اصطلاح استعمال کی‏ ‏تو اس کے ذریعے انہوں نے اللہ تعالےٰ کے‏ ‏ساتھ مسیحا کے قریبی تعلق کو بیان کیا۔‏ ‏اوراس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ سب جہاں‏ ‏کے لوگوں کے گناہوں معاف کرنے والا ہے۔‏ ‏انبیائے کرام نے اس بات کی بھی پیش گوئی کی‏ ‏ایک کنواری بی بی امید سے ہونگی‏ ‏اور اُن سے بیٹا پیدا ہوگا۔‏ ‏انبیا کرام نے یہ بھی فرمایا‏ ‏کہ مسیحا کی ولادت بیت اللحم میں ہوگی۔‏ ‏مسیحا یروشلیم میں بادشاہ کی حیثیت سے‏ ‏داخل ہوں گے۔‏ ‏مسیحا کا قریبی ساتھی انہیں چاندی‏ ‏کے تیس سکوں کے عوض‏ ‏گرفتار کروا ڈالے گا۔‏ ‏حضرت داؤد نے فرمایا کہ‏ ‏مسیحا اپنی جان قربان کردیں گے‏ ‏مگر اللہ انہیں تیسرے دن پھر سے‏ ‏زندہ کرے گا۔‏ ‏حضرت دانیال نے مسیحا کو‏ ‏آدم زاد کہہ کر مخاطب کیا‏ ‏اور فرمایا کہ وہ بادلوں پر سوار‏ ‏ہو کر سب سے اونچے آسمان تک پہنچ جائیں گے‏ ‏جہاں پر اللہ تعالےٰ انہیں سارے جہان کے‏ ‏لوگوں پر اختیار بخشے گا۔‏ ‏دو ہزار برس پہلے ایک ہستی‏ ‏اس دنیا میں تشریف لائی‏ ‏جس کا اسم مبارک "عیسیٰ المسیح" تھا۔‏ ‏جنہیں یسوع المسیح بھی کہا جاتا ہے۔‏ ‏جب لوگوں نے ان کے حیرت انگیز کام دیکھے تو‏ ‏ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے‏ ‏"کیا یہی مسیحا ہیں؟"‏ ‏انبیائے کرام نے جو کچھ آنےوالے مسیحا‏ ‏کے متعلق فرمایا تھا‏ ‏کیا وہ سب کچھ ان کی‏ ‏زندگی میں پایا جاتا ہے؟‏ ‏اس فلم میں یہ دکھایا گیا ہے‏ ‏کہ انجیل شریف کے مطابق حضرت‏ ‏عیسیٰ المسیح کون ہیں۔‏ ‏آپ نے کیا کِیا اور کیا فرمایا۔‏ ‏اس فلم میں ایک شخص حضرت عیسیٰ المسیح کا‏ ‏کردار ادا کر رہا ہے۔‏ ‏یوں توانسان اس لائق نہیں‏ ‏لیکن یہ فلم اس لئے بنائی گئی ہے‏ ‏کہ لوگ مسیحا کی پاکیزہ زندگی کے‏ ‏متعلق جان سکیں‏ ‏اور وہ برکات حاصل کرسکیں‏ ‏جن کا وعدہ پروردگار عالم نےفرمایا ہے۔‏ ‏اے معزز تھیوفِلس،‏ ‏میں اُن واقعات کو تمہارے لئے ٹھیک ٹھیک اور‏ ‏ترتیب وار لکھتا ہوں،‏ ‏جو ہمارے درمیان پیش آئے۔‏ ‏تاکہ تمہیں ہر ایک بات سے‏ ‏متعلق معلوم ہو جائے۔‏ ‏جن دنوں قیصر اگوستُس روم کا حکمران تھا‏ ‏اور ہیرودیس اعظم یہودیہ کا بادشاہ تھا‏ ‏اُس وقت اللہ تعالے نے اپنے فرشتے‏ ‏حضرت جبرائیل علیہ السلام کو‏ ‏ناصرت کی ایک کنواری‏ ‏حضرت مریم صدیقہ کے پاس بھیجا۔‏ ‏اے مریم! آپ خوف نہ کھائیں‏ ‏اللہ تعالے نے آپ کو چُن لیا ہے۔‏ ‏آپ امید سے ہونگی اور بیٹے کو جنم دیں گی۔‏ ‏آپ اُن کا نام عیسیٰ المسیح رکھنا۔‏ ‏یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں تو کنواری ہوں۔‏ ‏روح پاک آپ پر نازل ہوگا‏ ‏اور اسی سبب سے وہ "ابن اللہ" کہلائیں گے۔‏ ‏اور اُن کی سلطنت کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔‏ ‏حضرت مریم اپنی رشتے دار‏ ‏حضرت الیشبع سے ملنے گئیں،‏ ‏جو ضعیف اور بانجھ تھیں۔‏ ‏لیکن اللہ تعالے نے انہیں اُمید بخشی۔‏ ‏-الیشبع!‏ ‏-مریم!‏ ‏میری بہن مریم۔‏ ‏آپ تمام عورتوں میں مبارک ہیں۔‏ ‏اور آپ سے ہونے والا بچہ بھی مبارک ہے۔‏ ‏جونہی آپ کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔‏ ‏میرے پیٹ میں بچہ خوشی سے اچھل پڑا۔‏ ‏میری جان اللہ تعالےٰ کی حمد وثناء کرتی ہے۔‏ ‏اور میری روح میرے نجات دہندہ‏ ‏رب کریم سے خوش ہے۔‏ ‏اب سے لے کر آنے والی تمام پُشتوں کے لوگ‏ ‏مجھے مبارک کہیں گے۔‏ ‏ناصرت کے رہنے والے لوگو! سنو۔‏ ‏قیصر اگوستُس کے حُکم سے اُن علاقوں میں‏ ‏جن کا وہ حکمران ہے یعنی جلیل‏ ‏اور یہودیہ میں مردم شماری ہوگی۔‏ ‏اس وجہ سے سب لوگ اُن علاقوں میں جا کر‏ ‏اپنے اپنے نام لکھوائیں‏ ‏جن علاقوں میں اُن کے آباؤ اجداد‏ ‏پیدا ہوئے تھے۔‏ ‏لہذا حضرت یوسف بھی اپنی منگیتر‏ ‏حضرت مریم صدیقہ کے ساتھ‏ ‏یہودیہ کے ایک گاؤں بیت الحم‏ ‏میں اپنے نام درج کروانے گئے۔‏ ‏لیکن بیت اللحم میں انہیں ٹھہرنے کے لئے‏ ‏کوئی جگہ نہ ملی۔‏ ‏اور اگر ملی تو وہ‏ ‏جانوروں کے باندھنے کی جگہ تھی۔‏ ‏ان دنوں ملک کے اس علاقے میں کچھ چرواہے‏ ‏رات کے وقت اپنی بھیڑوں کی‏ ‏رکھوالی کر رہے تھے۔‏ ‏اچانک اللہ تعالے کے ایک فرشتے کا‏ ‏اُن پر ظہور ہوا‏ ‏اور اللہ تعالے کا نوُر ان کے چوگرد چمکا۔‏ ‏آج حضرت داؤد علیہ السلام کے‏ ‏شہر بیت اللحم میں‏ ‏تمہارے لئے ایک نجات دہندہ کی ولادت ہوئی ہے‏ ‏جو حضرت عیسیٰ المسیح ہیں۔‏ ‏وہ چرواہے اُس معصوم بچے کو‏ ‏دیکھنے کے لئے چل پڑے‏ ‏اور نجات دہندہ کی ولادت سے متعلق‏ ‏خوشخبری سُنانے والے سب سے پہلے لوگ ٹھہرے۔‏ ‏ایک ہفتے بعد آپ کے ختنے کا وقت آیا‏ ‏تو آپ کا نام عیسیٰ ٰ رکھا گیا۔‏ ‏حضرت یوسف اور بی بی مریم آپ کو‏ ‏یروشلیم لے گئے۔‏ ‏تاکہ آپ کو اللہ تعالے کے حضور‏ ‏پیش کیا جائے۔‏ ‏بیت المقدس میں ایک بزرگ اور پرہیزگار شخص‏ ‏شمعون موجود تھے۔‏ ‏روح پاک نے ان سے وعدہ کر رکھا تھا‏ ‏کہ جب تک وہ مسیحا کا دیدار نہ کر لیں‏ ‏موت کا مزہ نہ چکھیں گے۔‏ ‏اے ربّ العزت، اب اپنے خادم کو‏ ‏اپنے وعدے کے مطابق‏ ‏اطمینان سے رُخصت فرما دے۔‏ ‏کیونکہ میری آنکھوں نے‏ ‏تیری نجات کو دیکھ لیا ہے۔‏ ‏یہ بچہ اللہ تعالے کی طرف سے ہے۔‏ ‏اللہ تعالے تم دونوں کو برکت دے۔‏ ‏انہوں نے شریعت موسوی کے مطابق‏ ‏تمام فرائض ادا کیے۔‏ ‏پھر کُچھ عرصے بعد وہ ناصرت میں‏ ‏اپنے گھر کی طرف واپس روانہ ہوگئے۔‏ ‏جب عیسیٰ المسیح ١٢ سال کے ہوئے‏ ‏تو حضرت یوسف اور بی بی مریم‏ ‏انہیں عید فسح منانے کے لئے یروشلیم لے گئے۔‏ ‏جب وہ واپس آنے لگے تو اُن کا خیال تھا کہ‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح اُن کے ساتھ ہیں۔‏ ‏لیکن ایسا نہیں تھا۔‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح پیچھے رہ گئے تھے۔‏ ‏وہ آپ کو ڈھونڈنے کے لئے‏ ‏تین دن چل کر واپس پہنچے‏ ‏تو آپ کو یہودی مذہبی علماء کے ساتھ‏ ‏بیٹھا ہوا پایا۔‏ ‏یہ بچہ ہے کون جو ایسے سوال کر ریا ہے؟‏ ‏ہمارا ہے۔ یہ یہاں رہ گیا تھا۔‏ ‏اسے معاف فرمائیے۔‏ ‏جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ المسیح‏ ‏کی باتیں سنیں‏ ‏وہ حیران تھے۔‏ ‏بیٹا آپ نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟‏ ‏ہم پریشان ہو کر آپ کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔‏ ‏کیوں ڈھونڈ رہے تھے؟‏ ‏آپ کو پتہ نہیں کہ میرا اپنے آسمانی باپ کے‏ ‏گھر میں ہونا ضرروی تھا؟‏ ‏اور حضرت عیسیٰ المسیح‏ ‏اُن کے ساتھ ناصرت آئے۔‏ ‏آپ قد و قامت اور حکمت میں‏ ‏بڑھنے کے ساتھ ساتھ‏ ‏اللہ اور انسان دونوں کی نظر میں‏ ‏مقبول ہوتے چلے گئے۔‏ ‏یہ فلم عیسیٰ المسیح کی‏ ‏زندگی کی سچی کہانی ہے۔‏ ‏یہ کہانی لوقا کی انجیل سے لی گئی ہے۔‏ ‏انسپائریشن فلمز پیش کرتے ہیں۔‏ ‏عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔‏ ‏تبرییس قیصر کی حکومت کے پندرھویں سال‏ ‏جب پینطس پیلاطُس یہودیہ کا گورنر‏ ‏اور ہیرودیس جلیل کا حاکم تھا۔‏ ‏حنّاہ اور کائفا اہل یہود کے سب سے‏ ‏بڑے امام تھے۔‏ ‏اُن دنوں بی بی الشبع کے بیٹے حضرت یحیِی‏ ‏دریائے اُردن کے کنارے تبلیغ کرنے لگے‏ ‏کہ لوگوں اپنے گناہوں کی معافی‏ ‏کے لئے توبہ کرو‏ ‏اور پانی میں اصطباغ لو۔‏ ‏لوگو! اپنی بُری روِشوں سے باز آئو۔‏ ‏اور اصطباغ لو‏ ‏تو اللہ تعالے تمہارے گناہ بخش دے گا۔‏ ‏جیسا کہ حضرتِ اشعیاہ نبی کے‏ ‏صحیفے میں لکھا ہے،‏ ‏کہ بیابان میں کوئی پکار رہا ہے۔‏ ‏کہ اپنے مولا کے لئے راہ تیار کرو۔‏ ‏اُن کا راستہ ہموار کرو۔‏ ‏یقیناً ہر ایک گھاٹی بھر دی جائے گی۔‏ ‏اور ہر ایک پہاڑ اور ٹیلہ نیچا کیا جائے گا۔‏ ‏ٹیڑھے راستے سیدھے کئے جائیں گے‏ ‏اور جو ناہموار ہے ہموار کیا جائے گا۔‏ ‏اور سارے بنی نوع انسان‏ ‏گناہوں سے نجات پائیں گے۔‏ ‏-ہم کیا کریں؟‏ ‏-ہمیں بھِی بتائیے۔‏ ‏اے سانپ کے بچو!‏ ‏آپ کیا چاہتے ہیں؟ ہم کیا کریں؟‏ ‏ہماری مدد فرمائیے اور بتائیے کہ‏ ‏کون سی راہ پر چلیں؟‏ ‏جس کے پاس دو کُرتے ہیں۔‏ ‏وہ ایک اس کو دے دے،‏ ‏جس کے پاس نہیں ہے۔‏ ‏جس کے پاس کھانا ہے،‏ ‏وہ بانٹ کر کھائے۔‏ ‏استاد محترم!‏ ‏ہم تو‏ ‏محصول لینے والے ہیں۔‏ ‏ہم کیا کریں؟‏ ‏اتنا ہی محصول لو، جتنا جائز ہے۔‏ ‏ہم کیا کریں؟‏ ‏ہمارے لئے کیا حکم ہے؟‏ ‏کسی سے زبردستی پیسہ نہ لو۔‏ ‏کسی پر جھوٹا الزام نہ لگاؤ۔‏ ‏اپنی تنخواہ میں گزارا کرو۔‏ ‏ہمیں بتائیے، کیا آپ المسیح ہیں؟‏ ‏میں تمہیں پانی سے اصطباغ دیتا ہوں۔‏ ‏لیکن آنے والا مجھ سے بھی‏ ‏زیادہ صاحبِ اختیار ہے۔‏ ‏میں تو اُن کی جُوتی کے تسمے کھولنے کے‏ ‏لائق بھی نہیں ہوں۔‏ ‏لیکن وہ تمہیں روحِ پاک اور‏ ‏آگ سے اصطباغ دیں گے۔‏ ‏وہ انصاف کرنے کے لئے آ رہے ہیں‏ ‏تاکہ شریروں کو نیک لوگوں سے جُدا کریں۔‏ ‏اور رُوحِ پاک کبوتر کی صورت میں‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح پر آن ٹھہرا۔‏ ‏اور آسمان سے یہ آواز آئی‏ ‏"یہ میرا فرزند ہے،‏ ‏جس سے میں راضی ہوں۔"‏ ‏جب حضرت عیسیٰ المسیح نے‏ ‏اپنی تبلیغ کا آغاز کیا‏ ‏اُس وقت آپ کی عُمر تیس برس تھی۔‏ ‏آپ روح پاک سے معمور ہو کر‏ ‏دریائے اُردن سے واپس لوٹے‏ ‏اور روح پاک کی رہنمائی میں‏ ‏بیاباں کی طرف تشریف لے گئے۔‏ ‏جہاں پر آپ ٤٠ دن تک ابلیس کے‏ ‏ذریعے آزمائے گئے۔‏ ‏اس دوران آپ نے کچھ نہ کھایا پیا۔‏ ‏ابلیس نے عیسیٰ المسیح سے کہا۔‏ ‏اگر تُو ابن اللہ ہے‏ ‏تو ان پتھروں سے کہہ کہ روٹیاں بن جائیں۔‏ ‏لکھا ہے‏ ‏کہ آدمی صرف روٹی سے نہیں بلکہ‏ ‏کلامُ اللہ سے جیتا رہے گا۔‏ ‏اس کے بعد ابلیس نے آپ کو ایک اونچے‏ ‏مقام پر لے جا کر‏ ‏دنیا کی سب سلطنتیں دکھائیں۔‏ ‏میں یہ سارا اختیار اور دولت‏ ‏تمہیں دے دوں گا‏ ‏کیونکہ یہ سب میرے اختیار میں ہے‏ ‏اور میں جسے چاہوں دے سکتا ہوں۔‏ ‏اگر تم مجھے سجدہ کرو‏ ‏تو یہ سب میں تمہیں دے دوں گا۔‏ ‏لکھا ہے کہ اپنے ربّ ہی کو سِجدہ کر۔‏ ‏اور صرف اُسی کی عبادت کر۔‏ ‏پھرابلیس آپ کو بیت المقدس لے گیا‏ ‏اور سب سے اونچے کنارے پر لا کھڑا کیا۔‏ ‏اگر تُو ابن اللہ ہے،‏ ‏تو اپنے آپ کو یہاں سے نیچے گِرا دے۔‏ ‏کیونکہ لکھا ہے کہ‏ ‏"اللہ تعالےٰ فرشتوں کو بھیجے گا‏ ‏تاکہ وہ تجھے سنبھال لیں‏ ‏اور اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لِیں۔‏ ‏تاکہ تیرے پاؤں کو پتھروں سے چوٹ نہ لگے۔"‏ ‏کلامُ اللہ میں لکھا ہے‏ ‏کہ تُو اپنے ربّ کی آزمائش نہ کر۔‏ ‏پھر آپ ناصرت شہر تشریف لائے‏ ‏جہاں پرآپ نے پرورش پائی تھی۔‏ ‏-آداب۔‏ ‏-آداب۔‏ ‏آپ حسبِ دستُور‏ ‏ہفتے کے روز جو سبت کہلاتا ہے،‏ ‏عبادت گاہ میں گئے۔‏ ‏وہاں آپ کو حضرت اشعیاہ کے صحیفے سے‏ ‏تلاوت کرنے کے لئے دعوت دی گئی۔‏ ‏یقیناً رُوحِ پاک میرے ساتھ ہے‏ ‏اور اُس نے مُجھے چُنا ہے کہ‏ ‏غریبوں کو خوشخبری سُناؤں۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو‏ ‏رہائی اور اندھوں کو بینائی بخشوں۔‏ ‏جو ظُلم سہتے ہیں انہیں آزاد کراؤں۔‏ ‏اور اعلان کروں کہ پروردگار کی طرف سے‏ ‏نجات کا وقت آن پہنچا ہے۔‏ ‏باتیں تو ٹھیک کررہا ہے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ کا وہ وعدہ جو آپ نے سُنا،‏ ‏آج پُورا ہو گیا۔‏ ‏پیشین گوئی پوری ہوئی؟‏ ‏یہ وعدہ تو المسیح ہی پورا کرسکتے ہیں۔‏ ‏ہم کیسے یقین کریں؟‏ ‏بے شک نہیں تُم مجھ سے کہو گے،‏ ‏اے حکیم! پہلے خود کو اچھا کر۔‏ ‏تُم یہ بھی کہو گے کہ جو کُچھ کفرنحُوم‏ ‏میں کیا، اپنے شہر میں بھی کر کے دکھاؤ۔‏ ‏میں تمہیں بتاتا ہوں کہ‏ ‏کوئی بھی نبی اپنے وطن میں عِزت نہیں پاتا۔‏ ‏حضرتِ عیسیٰ نے اپنے آپ کو ان الفاظ کے‏ ‏ذریعے وہ مسیحا ظاہر کیا‏ ‏جسے لوگوں کی نجات کے لئے بھیجنے کا وعدہ‏ ‏اللہ تعالےٰ نے کر رکھا تھا۔‏ ‏یہودی اُنہیں بطور مسیحِ‏ ‏قبول نہیں کرتے تھے۔‏ ‏اُنہوں نے آپ کو پہاڑ سے گرانے کی کوشش کی۔‏ ‏لیکن آپ ہجُوم سے دور تشریف لے گئے۔‏ ‏اور اپنی راہ لی۔‏ ‏اور وہاں سے جلیل کے‏ ‏ایک شہر کفرنحوم تشریف لائے۔‏ ‏اہلِ رُوم کا قبضہ سارے ملک پر تھا‏ ‏اور لوگ اس بات کے مُشتاق تھے‏ ‏کہ المسیح آ کر انہیں‏ ‏رُومی ظلم و ستم سے چُھڑائیں۔‏ ‏-اَلسَّلَامُ عَلَيْكُم۔‏ ‏-وَعَلَيْكُمُ اَلسَّلَام۔‏ ‏شمعون کیا میں کشتی میں آ جاؤں؟‏ ‏ضرور، مولا۔‏ ‏کیا مولا کہیں جارہے ہیں؟‏ ‏ہمیں تعلیم دیجئے، مولا۔‏ ‏ہمیں سکھائیے۔‏ ‏ہمیں دین سکھائیے۔‏ ‏دو شخص بیت المقدس میں نماز ادا کرنے گئے۔‏ ‏ایک عالمِ دین، دوسرا محصول لینے والا۔‏ ‏عالمِ دین یوں دُعا مانگنے لگا۔۔۔‏ ‏اے اللہ! میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ باقی‏ ‏لوگوں کی طرح لالچی،‏ ‏بددیانت اور زِنا کار نہِں ہوں،‏ ‏اور تیرا شکر کرتا ہوں کہ میں اُس محصول‏ ‏لینے والے کی طرح بھی نہیں۔‏ ‏ہفتے میں دو روزے رکھتا ہوں۔‏ ‏اپنی کمائی کا دسواں حصہ بھی دیتا ہوں۔‏ ‏لیکن محصول لینے والا سر جھکائے‏ ‏چپ چاپ اللہ کے حضور کھڑا رہا۔‏ ‏پھر سینہ پیٹ پیٹ کر کہنے لگا،‏ ‏یااللہ! مجھ گناہ گار پر رحم کر۔‏ ‏میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں‏ ‏کہ یہ عالمِ دین نہیں بلکہ محصول لینے‏ ‏والا تھا جس کی دُعا قبول ہوئی۔‏ ‏خود کو بڑا کرنے والا، چھوٹا کیا جائے گا۔‏ ‏اور جو خاکسار ہے، بُلند ہو گا۔‏ ‏کشتی کو گہرے پانی میں لے چلو۔‏ ‏اور وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ‏ ‏مل کر جال ڈالو۔‏ ‏اے میرے مالک! ہم نے ساری رات محںت کی ہے،‏ ‏مگر ایک مچھلی ہاتھ نہیں آئی۔‏ ‏آپ کاحکم ہے تو‏ ‏میں جال ڈال دیتا ہوں۔‏ ‏یعقوب! یوحنا!‏ ‏یعقوب! یوحنا! جلدی کرو۔‏ ‏کشتی لائو، مدد کرو۔‏ ‏ارے! ہم تو خود مصروف ہیں۔‏ ‏مولا، یہاں سے چلے جائیے۔‏ ‏میں بہت گناہ گار ہوں۔‏ ‏تُم گھبرائو نہیں۔‏ ‏ماہی گیر تھے، آدم گیر بنو گے۔‏ ‏میرے پاس آئو اور‏ ‏میری تعلیم سُنو تو تُم زندہ رہو گے۔‏ ‏جب تک اللہ تعالےٰ مل سکتا ہے‏ ‏اُس کے طالِب رہو۔‏ ‏جب تک وہ نزدیک ہے، اُسے پُکارو۔‏ ‏بُرا آدمی اپنی راہ ترک کرے اور‏ ‏بدکردار اپنے خیالوں کو۔‏ ‏اگر وہ پروردگار کی طرف رجوع لائے‏ ‏تو ربّ العزت اُس پر رحم کرے گا۔‏ ‏کیونکہ ہمارا خدا غُفوُرالرحیِم ہے۔‏ ‏تُم خوشی کے ساتھ باہر جاؤ گے اور‏ ‏سلامتی کے ساتھ واپس لوٹو گے۔‏ ‏مولا تشریف لا رہے ہیں۔‏ ‏دیکھو! وہ آگئے۔‏ ‏حضور! میرے مولا!‏ ‏میری بیٹی کو بچا لیجئے۔ حضور رحم کریں۔‏ ‏وہ ١٢ برس کی ہے اور مرنے والی ہے۔‏ ‏خدارا، میرے ساتھ چلئے۔‏ ‏رہنے دو، یائر۔‏ ‏-مالک!‏ ‏-بچی مرگئی ہے۔‏ ‏اب مولا کو زحمت نہ دو۔‏ ‏پریشان نہ ہو، یائر۔‏ ‏ایمان رکھ، تو وہ ٹھیک ہو جائے گی۔‏ ‏روؤ مت۔‏ ‏وہ مری نہیں، بلکہ سو رہی ہے۔‏ ‏بیٹا!‏ ‏اُٹھ جاؤ۔‏ ‏اِسے کچھ کھانے کو دو۔‏ ‏اور سنو! کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔‏ ‏اس کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح نے لاوی قبیلے‏ ‏کے محصول لینے والے ایک شخص کو دیکھا،‏ ‏جس کا نام متی تھا۔‏ ‏وہ چونگی پر محصول لینے‏ ‏کے لئے بیٹھا ہوا تھا۔‏ ‏میرے پیچھے آؤ۔‏ ‏اس کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح ایک پہاڑی پر‏ ‏دُعا کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔‏ ‏آپ ساری رات وہاں پر اللہ کا ذکر کرتے رہے۔‏ ‏صبح سُورج طلوع ہوا تو آپ نے‏ ‏١٢ پیروکاروں کو چُنا‏ ‏اور اُنہیں اپنے شاگرد ہونے کا شرف بخشا۔‏ ‏حضرت شمعون جن کا نام آپ نے پطرس رکھا۔‏ ‏اور اُن کے بھائی حضرت اندریاس۔‏ ‏حضرت یعقوب۔‏ ‏حضرت یوحنّا۔‏ ‏اور حضرت فلپّس۔‏ ‏اور حضرت برتلمائی۔‏ ‏حضرت متّی۔‏ ‏حضرت توما۔‏ ‏اور حلفئی کے بیٹے، حضرت یعقوب۔‏ ‏حضرت شمعون، جو زیلوتیس بھی کہلاتے ہیں۔‏ ‏اور حضرت یعقوب کے بھائی، حضرت یہوداہ۔‏ ‏اور یہوداہ اسکریوتی۔‏ ‏جس نے بعد میں حضرت عیسیٰ المسیح کو‏ ‏گرفتار بھی کروایا۔‏ ‏مُبارک ہو تُم جو غریب ہو،‏ ‏کیونکہ تُم ہی جنتّی ہو گے۔‏ ‏تُم بھُوکے ہو تو مُبارک ہو،‏ ‏کیونکہ آسُودہ کئے جاؤ گے۔‏ ‏تُم روتے ہو تو مبارک ہو،‏ ‏کیونکہ تُم ہنسو گے۔‏ ‏جب لوگ تمہیں بے عزت کریں، تم سے‏ ‏نفرت کریں، تو تم مبارک ہوگے۔‏ ‏اور اگر میری وجہ سے تمہیں بُرا کہیں،‏ ‏اُس وقت تُم خوشی منانا اور شادمان ہونا۔‏ ‏کیونکہ جنت میں تمہارے لئے بڑا اجر ہے۔‏ ‏ان کے بزرگوں نے تو انبیاء کے‏ ‏ساتھ بھی یہی سلوک کیا تھا۔‏ ‏-سولہ، سترہ، اٹھارہ، انیس، بیس۔‏ ‏-سولہ، سترہ، اٹھارہ، انیس، بیس۔‏ ‏بس یہی ہیں۔‏ ‏چلو، جلدی! سنب نکالو!‏ ‏افسوس تُم پر جو دولت مند ہو۔‏ ‏تم اپنے حصے کا عیش کرچکے۔‏ ‏لگتا ہے یہ امیر نہیں بننا چاہتا۔‏ ‏افسوس تُم پر، جو آج ہنستے ہو۔‏ ‏جب لوگ تمہیں نیک کہیں، تو افسوس۔‏ ‏اُن کے بزرگ جھوٹے نبیوں کے‏ ‏متعلق یہی کہتے تھے۔‏ ‏لیکن میں تمہِں بتا رہا ہوں۔‏ ‏دُشمن سے محبت کرو۔‏ ‏نفرت کرنے والوں کا بھلا کرو۔‏ ‏لعنت کرنے والوں کے لئے برکت‏ ‏اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو۔‏ ‏اگر کوئی تمہیں طمانچہ مارے،‏ ‏تو دوسرا گال بھی پھیر دو۔‏ ‏اور اگر کوئی تمہارا کوٹ لینا چاہے،‏ ‏تو اُسے قمیض بھی دے دو۔‏ ‏مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ بھیجو۔‏ ‏اور اگر کوئی تمہارا مال لے لے،‏ ‏تو واپس نہ مانگو۔‏ ‏دوسروں سے وہ سلوک کرو،‏ ‏جو چاہتے ہو تہمارے ساتھ کیا جائے۔‏ ‏اگر تُم اُن سے پیار کرتے ہو،‏ ‏جو تُم سے کرتے ہیں۔‏ ‏تو تُمہیں کیا برکت مِلے گی؟‏ ‏ایسا تو گناہ گار بھی کرتے ہیں۔‏ ‏اور اگر تُم اُن کے ساتھ نیک ہو،‏ ‏جو تمہارے ساتھ نیک ہیں۔‏ ‏تو تمہیں کیسے برکت ملے؟‏ ‏کیونکہ ایسا تو گناہ گار بھِی کرتے ہیں۔‏ ‏کیسے چھو رہا ہے اُسے؟‏ ‏کیسے بات کررہا ہے اُس سے؟‏ ‏توبہ! توبہ!‏ ‏نہیں۔ دشمنوں سے محبت کرو۔‏ ‏اور اُن کا بھلا کرو۔‏ ‏واپسی کی توقع کے بغیر دو۔‏ ‏اس میں تمہارے لئے بڑا اجر ہے۔‏ ‏یوں تُم خدا تعالےٰ کے چُنے ہوئے کہلاؤ گے۔‏ ‏اللہ شریروں اور ناشکروں پر بھی مہربان ہے۔‏ ‏لوگوں پر رحم کیا کرو،‏ ‏جیسے اللہ نے تم پر کیا ہے۔‏ ‏عیسیٰ المیسح ہمیں بچائیے۔‏ ‏عیب جوئی نہ کرو، تمہاری بھی نہیں ہوگی۔‏ ‏الزام نہ لگاؤ۔‏ ‏تم پر بھِی انگلی نہیں اٹھے گی۔‏ ‏معاف کرو۔‏ ‏تمہیں بھی معاف کیا جائے گا۔‏ ‏مولا، ہمیں سیدھی راہ پر چلائیے۔‏ ‏دو، تو تمہیں بھی دیا جائے گا۔‏ ‏جتنا دیتے ہو،‏ ‏اتنا ہی تمہیں بھی دیا جائے گا۔‏ ‏اندھا اندھے کو راہ نہیں دِکھا سکتا۔‏ ‏اگر وہ ایسا کرے،‏ ‏تو دونوں گڑھے میں گِریں گے۔‏ ‏اپنےبھائی کی آنکھ کا تِنکا دیکھنے والے،‏ ‏تو اپنی آنکھ کا شہتیِر کیوں نہیں دیکھتا۔‏ ‏اور سکھائیے، اُستاد!‏ ‏مولا، ہمیں آپ کی ضرُورت ہے۔‏ ‏مبارک ہے وہ ماں، جس نے آپ کو جنم دیا۔‏ ‏اس سے بڑھ کر مبارک وہ ہیں،‏ ‏جو کلام سُنتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔‏ ‏میں اس آدمی کو جاننا چاہتا ہوں؟‏ ‏تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا یہ مسیحا ہے؟‏ ‏ایک فریسی نے حضرت عیسیٰ کو‏ ‏رات کے کھانے پر دعوت دی۔‏ ‏آپ تشریف لے گئے اور اُس کے ساتھ‏ ‏کھانا کھانے بیٹھے۔‏ ‏بچّو، چلو جاؤ یہاں سے۔‏ ‏سُنا نہیں تُم نے؟ جاؤ۔‏ ‏شرارتیں کرتے ہیں، لیکن اچھے بچے ہیں۔‏ ‏-یہ کیا کررہی ہے یہاں؟‏ ‏-پتہ نہیں۔‏ ‏یہ کر کیا رہی ہے؟‏ ‏اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جان لیتا کہ‏ ‏جو عورت اِسے چھو رہی ہے وہ کون ہے۔‏ ‏اسے پتہ ہو تا کہ وہ کتنی گناہ گار ہے۔‏ ‏شمعون، میں جانتا ہوں یہ عورت کون ہے۔‏ ‏میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں،‏ ‏دو آدمیوں نے ایک شخص سے قرض لیا۔‏ ‏ایک نے پانچ سو، دوسرے نے صرف پچاس۔‏ ‏دونوں میں سے کوئی بھی واپس نہ کرپایا۔‏ ‏اُس نے دونوں کو مُعاف کردیا۔‏ ‏کون زیادہ محبت دکھائے گا؟‏ ‏میرا خیال ہے وہ جس کا زیادہ قرضہ معاف ہوا۔‏ ‏ٹھیک کہا تم نے۔‏ ‏اس عورت کو دیکھ رہے ہو؟‏ ‏میں تمہارے گھر آیا،‏ ‏تُم نے پاؤں دھونے کے لئے پانی نہ دیا۔‏ ‏لیکن اس نے میرے پاؤں آنسوئوں سے دھوئے‏ ‏اور اپنے بالوں سے سُکھائے۔‏ ‏تم نے میرے ہاتھ نہ چومے۔‏ ‏یہ جب سے آئی ہے میرے پائوں چُوم رہی ہے۔‏ ‏تم نے میرے سر پر تیل نہ ڈالا۔‏ ‏لیکن اس نے میرے پاؤں عطر سے معطر کردیے۔‏ ‏میں تُم سے کہتا ہوں، اس کی یہ محبت‏ ‏ثبوت ہے کہ اس کے سارے گناہ معاف ہوئے۔‏ ‏جس نے تھوڑی معافی پائی،‏ ‏محبت بھی تھوڑی کرتا ہے۔‏ ‏تمہارے گناہ معاف ہوئے، بیٹا۔‏ ‏ایسا کیسے سوچا جا سکتا ہے؟‏ ‏ایسا ہو نہیں سکتا۔‏ ‏تمہارے ایمان نے تمہیں بچا لیا۔‏ ‏سلامتی سے جاؤ۔‏ ‏ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔‏ ‏سمجھ سے باہر ہے۔‏ ‏عیسیٰ المیسح گاؤں گاؤں اور شہر شہر گھوم کر‏ ‏مملکت الٰہیہ کی تبلیغ کرتے رہے۔‏ ‏آپ کے ١٢ شاگرد ساتھ ساتھ رہتے۔‏ ‏اور کچھ خواتین بھی جنہوں نے‏ ‏بدروحوں سے شفا پائی تھی۔‏ ‏حضرتِ مریم جو مجدل کی رہنے والی تھیں۔‏ ‏حضرت یوآنہ، جن کے شوہر کا نام خوزہ تھا۔‏ ‏اور وہ ہیرودیس کے محل میں کام کرتے تھے۔‏ ‏اور حضرت سوسنّا بھی اُن کے ساتھ تھیں۔‏ ‏ان دنوں ہیرودیس نے جو جلیل کا حاکم تھا۔‏ ‏حضرت یحییٰ کو قید خانے میں ڈال دیا‏ ‏کیونکہ انہوں نے ہیرودیس کو اُس کی بھابھی‏ ‏کے ساتھ ناجائز تعلق رکھنے پر ملامت کی تھی۔‏ ‏تو پھر؟‏ ‏ہم نائین شہر کے پھاٹک پر تھے۔‏ ‏وہاں سے ایک جنازہ آ رہا تھا۔‏ ‏مُردہ شخص ایک بیوہ کا اکلوتا بیٹا تھا۔‏ ‏عیسیٰ المیسح رحم سے بھر گئے،‏ ‏آپ نے میّت کو چھُو کر فرمایا۔‏ ‏اے جوان! اُٹھ کھڑا ہو۔‏ ‏وہ اُٹھا، اور حضرتِ عیسی المیسح نے‏ ‏اُسے ماں کے سپُرد کیا۔‏ ‏اُن سے پوچھو، بتائیے۔ کیا آپ وہی ہیں‏ ‏جن کی بشارت یحیِٰی نے دی تھی؟‏ ‏یا ہم کسی اور کی راہ دیکھیں؟‏ ‏مولا۔‏ ‏مولا۔‏ ‏حضرتِ یحییٰ نے یہ پچھوایا ہے۔‏ ‏کیا آپ وہی ہیں جو آنے والے تھے؟‏ ‏یا ہم کسی اور کا انتظار کریں؟‏ ‏جاؤ جو کچھ دیکھا ہے، یحییٰ کو بتائو۔‏ ‏کہ اندھے دیکھتے ہیں، اور لنگڑے چل رہے ہیں۔‏ ‏اور مبارک ہیں وہ جو مجھ پر شک نہیں کرتے۔‏ ‏مُجھے اُٹھا لیجئے ناں۔‏ ‏چلو میرے کندھے پر، اب آیا نظر؟‏ ‏جی وہ رہے المسیح۔‏ ‏کوئی کسان بیج بونے کے لئے نکلا،‏ ‏کچھ بیج راہ کے کنارے گِرا اور‏ ‏پائوں تلے روندا گیا۔‏ ‏اور پرنددوں نے اُسے چُگ لیا۔‏ ‏کُچھ پتھریلی زمین میں گِرا۔‏ ‏جب وہ بیج اُگا تو سُوکھ گیا کیونکہ‏ ‏اُسے خوراک نہ ملی۔‏ ‏کچھ بیج کانٹوں والی جھاڑیوں میں گرا۔‏ ‏وہ جھاڑیاں بھی اس کے ساتھ بڑھ گئیں۔‏ ‏جھاڑیوں نے اُسے دبا لیا۔‏ ‏کچھ بیج اچھی زمین میں گرا۔‏ ‏اور جب اس اچھی زمین میں گِرا،‏ ‏تو سو گُنا پھل لایا۔‏ ‏مولا، لوگوں کی بھیڑ میں آپ تمثیلوں میں‏ ‏کیوں بات کرتے ہیں؟‏ ‏تمہیں اللہ تعالےٰ کے بھیدوں کا‏ ‏عِلم بخشا گیا ہے۔‏ ‏لیکن دوسروں سے تمثیلوں میں کلام کرتا ہوں‏ ‏تاکہ وہ دیکھ کر بھی نہ دیکھیں۔‏ ‏اور سُنتے ہوئے بھی نہ سمجھیں۔‏ ‏اس تمثیل کے معانی یہ ہیں۔‏ ‏بیج، اللہ کا کلام ہے۔‏ ‏راہ کے کنارے والا بیج‏ ‏وہ لوگ ہیں جو سُنتے تو ہیں‏ ‏لیکن ابلیس اُن سے اللہ کا کلام چھین لیتا‏ ‏ہے تاکہ وہ ایمان لا کر نجات نہ پائیں۔‏ ‏پتھریلی زمین والا بیج وہ لوگ ہیں جو اللہ‏ ‏کی باتیں سن کر قبول کرتے ہیں۔‏ ‏لیکن اُن کی جڑیں نہیں ہوتیں۔‏ ‏یہ عارضی ایمان ہوتا ہے۔‏ ‏جب وہ آزمائش میں پڑتے ہیں،‏ ‏تو وہ پھر جاتے ہیں۔‏ ‏جھاڑیوں میں گرنے والا بیج‏ ‏وہ لوگ ہیں جو سُنتے تو ہیں،‏ ‏لیکن اس دنیا کی فکروں میں‏ ‏ایسے پھنستے ہیں کہ دب کر رہ جاتے ہیں۔‏ ‏ان کے لئے کلام اللہ بے فائدہ ہے۔‏ ‏اور اچھی زمین میں گرنے والا بیج وہ لوگ ہیں‏ ‏جو کلامُ اللہ کو سن کر قبول کرتے ہیں۔‏ ‏اور اپنی زندگی اس کے مطابق بناتے ہیں۔‏ ‏چِراغ جِلا کر برتن کے نیچے نہیں رکھتے‏ ‏اور نہ چارپائی کے نیچے۔‏ ‏اُسے چِراغ دان پر رکھتے ہیں۔‏ ‏تاکہ اندر آنے والوں کو روشنی ملے۔‏ ‏جو چھپا ہوا ہے ظاہر کیا جائے گا‏ ‏اور جو کچھ ڈھکا ہوا ہے،‏ ‏وہ بھی ظاہر کیا جائے گا۔‏ ‏پس جو سن رہے ہو، دھیان دو۔‏ ‏جس کے پاس ہے اُسے اور دیا جائے گا۔‏ ‏لیکن جِس کے پاس نہِں اُس سے وہ بھی لے لیا‏ ‏جائے گا جو کچھ اس کے پاس ہے۔‏ ‏مولا، آپ کی والدہ اور عزیز‏ ‏آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‏ ‏میری ماں اور عزیز وہ ہیں،‏ ‏جو کلامُ اللہ سُنتے ہیں۔‏ ‏اور عمل کرتے ہیں۔‏ ‏ایک دفعہ حضرتِ عیسیٰ المیسح اپنے‏ ‏شاگردوں کے ساتھ کشتی میں تھے۔‏ ‏آپ نے فرمایا: "آؤ، جھیل کے اُس پار چلیں۔"‏ ‏کشتی چلنا شروع ہوئی، تو آپ سو گئے۔‏ ‏مولا! مولا!‏ ‏عیسیٰ المسیح ہم مر رہے ہیں۔‏ ‏لہریں ہم پر چڑھ آئی ہیں۔‏ ‏مولا، ہمِں بچا لیجئے۔‏ ‏اب ہم بچ جائیں گے۔‏ ‏کیا ہوگیا ہے تمہارے ایمان کو؟‏ ‏پھر وہ گراسینیوں کے علاقے میں آئے،‏ ‏جو جلیل کی جھیل کے پار ہے۔‏ ‏عیسیٰ!‏ ‏اے ابن اللہ!‏ ‏مُجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‏ ‏التجا ہے، مجھے سزا نہ دیں۔‏ ‏تمہارا نام کیا ہے؟‏ ‏لشکر۔‏ ‏آپ سے منّت ہے، ہمیں عذاب میں نہ ڈالئے۔‏ ‏اُن سوؤروں کے ریوڑ میں بھیج دیں۔‏ ‏ارے! واپس آؤ!‏ ‏رُکو! رُک جاؤ!‏ ‏اور بد روحیں اس شخص میں سےنکل کر‏ ‏واپس آؤ۔‏ ‏سوؤروں میں داخل ہوگئیں۔‏ ‏اے جادو گر!‏ ‏جا یہاں سے۔ ہمیں چھوڑ دے۔‏ ‏اس جگہ سے چلا جا۔ ہمیں چھوڑ۔‏ ‏یہاں سے چلا جا۔‏ ‏مولا، میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔‏ ‏مجھے ساتھ لے چلیں۔‏ ‏تُم اپنے گھر جاؤ،‏ ‏اور بتاؤ اللہ نے رحم کیا ہے۔‏ ‏عیسیٰ المسیح اور اُن کے شاگرد خود کو‏ ‏بھیڑ سے علیحدہ کر کے‏ ‏بیت صیدا کی طرف روانہ ہو گئے۔‏ ‏لیکن ہجوم بھی اُن کے پیچھے ہو لیا۔‏ ‏دوپہر کے وقت حضرت پطرس نے عرض کیا۔‏ ‏مولا، ان لوگوں کو بھیج دیجئے۔‏ ‏تاکہ ارد گرد کے گاؤں اور‏ ‏دیہاتوں میں جائیں۔‏ ‏اپنے کھانے اور رہنے کا بندعبست کریں۔‏ ‏ہمارے پاس تو کچھ نہیں۔‏ ‏تم ہی انہیں کُچھ کھانے پینے کو دو۔‏ ‏ہمارے پاس صرف یہ پانچ روٹیاں اور‏ ‏دو مچھلیاں ہی ہیں۔‏ ‏ربِّ کائنات تو جو بادشاہ ہے۔‏ ‏تو برکت والا ہے۔‏ ‏جو زمین سے اناج پیدا کرتا ہے۔‏ ‏یہ تو معجزہ ہوگیا۔‏ ‏یہ ناقابل یقین ہے۔‏ ‏لوگ کیا کہتے ہیں؟ میں کون ہوں؟‏ ‏کچھ کہتے ہیں کہ آپ حضرت یحییٰ ہیں۔‏ ‏اور کُچھ حضرت الیاس کہتے ہیں۔‏ ‏کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ پہلے انبیاء میں سے‏ ‏ایک ہیں۔ جو زندہ ہوگئے ہیں۔‏ ‏تُم کیا کہتے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے؟‏ ‏آپ عیسیٰ المسیح ہیں۔‏ ‏یہ بات کسی سے نہ کہنا۔‏ ‏ضرور ہے کہ میں دُکھ اٹھاؤں‏ ‏اور رد کیا جاؤں۔‏ ‏مصلوب کیا جاؤں۔‏ ‏اور تیسرے دن مُردوں مِں سے جی اُٹھوں۔‏ ‏تُم میں سے کون میرا پیروکار ہوگا؟‏ ‏مولا، میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔‏ ‏لیکن ذرا اجازت دیجئے‏ ‏گھروالوں کو اللہ حافظ کہہ آؤں۔‏ ‏جو ہل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دیکھے وہ‏ ‏مملکت الٰہیہ کے لائق نہیں ہے۔‏ ‏میرے پیچھے آنے والا‏ ‏اپنی خُودی کا انکار کرے۔‏ ‏ہر روز اپنی صلیب اُٹھا کر میرے پیچھے چلے۔‏ ‏اپنی جان بچانے والا اُسے کھوئے گا۔‏ ‏لیکن جو میری خاطر اپنی جان کھوئے گا،‏ ‏اُسے بچا لے گا۔‏ ‏انسان ساری دنیا کما لے مگر‏ ‏جہنّم میں جائے تو کیا فائدہ۔‏ ‏اگر کوئِی مجھ سے اور میری تعلیم سے شرمائے‏ ‏تو یاد رکھو کہ‏ ‏جب میں فرشتوں کے ساتھ آؤں گا،‏ ‏تب میں بھی ایسے لوگوں سے شرماؤں گا۔‏ ‏میں کہتا ہوں‏ ‏تم میں سے کچھ لوگ جب تک اللہ کی بادشاہات‏ ‏نہ دیکھیں وہ مریں گے نہیں۔‏ ‏پھرحضرت عیسیٰ المسیح، حضرت پطرس،‏ ‏حضرتِ یعقوب‏ ‏اور حضرتِ یوحنّا کو ساتھ لے پہاڑ پر‏ ‏دُعا کرنے گئے۔‏ ‏جب آپ دُعا کر رہے تھے‏ ‏تو آپ کا چہرہ چمکنے لگا۔‏ ‏اور پوشاک سفید ہوگئی۔‏ ‏اچانک دو بزرگ آپ سے گفتگو کرنے لگے۔‏ ‏یہ حضرت مُوسیٰ اور حضرتِ اِلیاس تھے‏ ‏جو آسمان سے ظاہر ہوئے تھے۔‏ ‏آپ اللہ تعالےٰ کے منصوبے کو پورا کریں گے۔‏ ‏یروشلیم میں آپ کا انتقال ہوگا۔‏ ‏وہاں سے رُخصت ہوتے وقت‏ ‏حضرت پطرس نے عرض کیا۔‏ ‏مولا، ہماری خوش قسمتی ہے کہ‏ ‏ہم آپ کے ساتھ موجود ہیں۔‏ ‏کیا یہاں تین خیمے بنائیں؟ ایک آپ کے لئے۔‏ ‏حضرت پطرس کے یہ کہتے ہی۔۔۔‏ ‏ایک حضرت موسیٰ کے لیے اور‏ ‏ایک حضرت الیاس کے لئے۔‏ ‏ایک بڑے گہرے بادل نے مسیحا کو چھپا لیا۔‏ ‏جس سے آپ کے شاگرد گھبرا گئے۔‏ ‏بادلوں میں سے ایک آواز آئی۔‏ ‏"یہ میرا فرزند ہے‏ ‏جسے میں نے بھیجا ہے اس کی سُنو۔"‏ ‏مولا! مولا! میرے بیٹے کو بچا لیجیے۔‏ ‏اللہ کا واسطہ ہے ہماری مدد کریں۔‏ ‏میرا ایک ہی بچہ ہے‏ ‏آپ کے شاگردوں سے درخواست کی کہ‏ ‏اس سے بدروح نکالیں، اُن سے کچھ نہ ہوا۔‏ ‏اے کم اعتقاد اور ٹیڑھے لوگو!‏ ‏میں کب تک تمہارے ساتھ رہ کر‏ ‏برداشت کروں گا۔‏ ‏بچے کو لاؤ۔‏ ‏اس کا تو چہرہ بھی ٹھیک ہوگیا۔‏ ‏یا اللہ! تیرا شکر ہے۔‏ ‏دعا سکھائیے،‏ ‏جیسے حضرت یحییٰ نے سکھائی تھی۔‏ ‏جب دُعا کرو تو یوں کہو‏ ‏اے ہمارے آسمانی باپ!‏ ‏تیرا نام پاک مانا جائے۔‏ ‏تیری بادشاہی آئے۔‏ ‏تیری آسمانی مرضی زمین پر بھی پوری ہو۔‏ ‏ہمارے روز کی روٹی ہمیں عطا کر۔‏ ‏ہمارے گناہ معاف ویسے فرما‏ ‏جیسے ہم اپنے قصوروں کو مُعاف کرتے ہیں۔‏ ‏ہمیں آزمائش میں نہ لا‏ ‏بلکہ بُرائی سے بچا۔‏ ‏مانگو، تو تمہیں دیا جائے گا۔‏ ‏ڈھونڈو، تو پاؤ گے۔‏ ‏کھٹکھٹاؤ، تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔‏ ‏کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے مِلتا ہے۔‏ ‏ڈھونڈنے والا پاتا ہے اور‏ ‏جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے لئے کھولا جاتا ہے۔‏ ‏کیا تم میں سے کوئی ایسا باپ ہے جو اپنے‏ ‏بچوں کو۔۔۔ مچھلی مانگیں تو سانپ دے؟‏ ‏یا انڈہ مانگنے پر بچھو دے؟‏ ‏تُم بُرے ہو کر بھی اپنے بچوں کو‏ ‏اچھی چیزیں دیتے ہو۔‏ ‏تو پھر سوچو آسمانی باپ ان لوگوں کو روح پاک‏ ‏کیوں نہ بخشے گا جو اس سے مانگیں گے۔‏ ‏غور سے سن لو۔‏ ‏اس بات کی فکر نہ کرو کہ کیا کھاؤ گے۔‏ ‏اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنو گے۔‏ ‏کیونکہ جان خوراک سے بڑھ کر ہے۔‏ ‏اور بدن پوشاک سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔‏ ‏کوؤں کو دیکھو ذرا۔‏ ‏نہ وہ کوئی فصل بوتے ہیں، نہ کاٹتے‏ ‏ہیں اور نہ ہی اُن کا کوئی گودام ہے۔‏ ‏پھِر بھی اللہ انہیں کھلاتا ہے۔‏ ‏تمہاری قدر تو خدا کی نظر میں‏ ‏ان پرندوں سے کہیں زیادہ ہے۔‏ ‏تم میں سے کوئی ہے جو فکر کر کے‏ ‏زندگی کا ایک لمحہ بڑھا دے۔‏ ‏اگر تم سے یہ نہیں ہوسکتا۔‏ ‏تو فکر کرتے ہی کیوں ہو؟‏ ‏اِن پودوں کو دیکھو، کیسے بڑھتے ہیں۔‏ ‏ان کی کھڈیاں ہیں نہ کپڑے بُنتے ہیں۔‏ ‏سلیمان بادشاہ اپنی ڈھیروں دالت کے باوجود‏ ‏ایسا لباس نہیں پہنتے تھے۔‏ ‏اگر اللہ گھاس کو جو کل آگ میں جائے گی‏ ‏ایسی خوبصورت پوشاک پہناتا ہے،‏ ‏تو تمہیں اچھا لباس کیوں نہ پہنائے گا۔‏ ‏اے کم ایمان والو!‏ ‏ہمارا ایمان بڑھائیے۔‏ ‏اگر تم میں رتّی برابر بھی ایمان ہوتا اور‏ ‏تم اس درخت سے کہتے‏ ‏کہ جڑ سے اُکھڑ کر سمندر میں جا گر‏ ‏تو وہ تمہارا حکم مانتا۔‏ ‏گناہ کرنے کے لئے آزمائشیں تو آئیں گی‏ ‏لیکن افسوس اُس پر جس کی وجہ سے آئیں۔‏ ‏کسی کو گُناہ کی طرف مائل‏ ‏کرنے والے کے لئے اچھا ہوتا‏ ‏کہ اُس کے گلے میں بھاری پتھر باندھ کر‏ ‏سمندر میں پھینک دیا جاتا،‏ ‏تاکہ وہ ڈوب جاتا۔‏ ‏اللہ کی بادشاہی کیسی ہے؟ یہ ایسی ہے‏ ‏ایک شخص چھوٹا سا بیج لے کر‏ ‏کھیت میں بوتا ہے،‏ ‏وہ اُگتا ہے اور درخت بن جاتا ہے۔‏ ‏اور اُس کی ڈالیوں پرپرندے بسیرا کرتے ہیں۔‏ ‏مجھے نہیں پتہ یہ کیا کہتا ہے۔‏ ‏تم لوگ محصول لینے والوں اور گناہ گاروں‏ ‏کے ساتھ کیوں کھاتے پیتے ہو؟‏ ‏ڈاکٹر کی ضرورت تندرستوں کو نہیں بلکہ‏ ‏بیماروں کو ہوتی ہے۔‏ ‏میں اس لئے نہیں آیا کہ‏ ‏نیک لوگوں کو بلائوں۔‏ ‏بلکہ اس لئے کہ گناہ گار توبہ کریں۔‏ ‏مولا، بادشاہت کیا ہے؟ کچھ اور بتائیے نا۔‏ ‏ڈرو مت۔ اللہ تعالےٰ کو‏ ‏یہ پسند ہے کہ تم اپنا‏ ‏سارا مال بیچ کر پیسہ غریبوں میں بانٹ دو۔‏ ‏۔ ایسے بٹوے لو جو پُرانے نہیں ہوتے‏ ‏اور اپنا مال آسمان پر جمع کرو،‏ ‏جہاں وہ کبھی خراب نہیں ہوتا۔‏ ‏وہاں چور چوری نہیں کرسکتا۔‏ ‏نہ ہی کیڑا خراب کرے گا،‏ ‏کیوں کہ جہاں تمہارا مال ہے،‏ ‏وہیں تمہارا دھیان ہوگا۔‏ ‏اے خاتون!‏ ‏تُم اپنی بیماری سے شِفا پا چُکی ہو۔‏ ‏دیکھو! دیکھو وہ ٹھیک ہوگئی ہے۔‏ ‏آؤ دیکھو، یہ معجزہ ہے۔ وہ ٹھیک ہوگئی ہے۔‏ ‏آؤ، آؤ، دیکھو۔‏ ‏ال ل ل۔۔۔ الحمدللہ۔ ١٨ برس سے‏ ‏بیمار تھی۔‏ ‏اللہ آپ کو محفوظ رکھے۔‏ ‏چھ دن ہیں جن میں ہم کام کرتے ہیں۔‏ ‏شفا کے لئے آنا ہے تو اِن میں سے کسی دن آؤ‏ ‏عبادت کے دن نہیں۔‏ ‏اے منافقو!‏ ‏کیا تُم میں سے کوئی ہفتے کے دن‏ ‏اپنے ڈھور ڈنگروں کو پانی پلانے کے لئے‏ ‏نہیں لے جائے گا؟‏ ‏یہ عورت اولادِ ابراہیم ہے‏ ‏اور ١٨ برس سے شیطان نے اِسے جکڑ رکھا تھا۔‏ ‏کیا ہفتے یا سبت کے دن‏ ‏اِس کا آزاد ہو جانا مناسب نہیں؟‏ ‏نیک اُستاد۔ مُجھے بتائیے کہ جنّت میں‏ ‏جانے کے لئے مجھے کیا کرنا چاہئے؟‏ ‏تُو مُجھے نیک کیوں کہتا ہے؟‏ ‏نیک تو صرف اللہ کی ذات ہے۔‏ ‏موسیٰ کی شریعت سے واقف ہو،‏ ‏تُم زنا نہ کرنا۔‏ ‏نہ خون کرنا اور نہ ہی کسی پر الزام لگانا۔‏ ‏اپنے ماں باپ کی عزت کرنا۔‏ ‏یہ سب کچھ تو میں بچپن سے ہی‏ ‏کرتا چلا آرہا ہوں۔‏ ‏تو پھر یک اور کام بھی کرنا ہے۔‏ ‏اپنا سارا مال بیچ کر غریبوں میں بانٹ دے،‏ ‏پھر تجھے آسمانی خزانہ ملے گا۔‏ ‏تب آ کر میرے پیچھے ہو لینا۔‏ ‏لیکن ہم تو تاجر ہیں۔ ہم دولت مند ہیں۔‏ ‏کتنا مشکل ہے کسی کا جنّت میں داخل ہونا۔‏ ‏امیر آدمی کا جنت میں داخل ہونا‏ ‏اتنا ہی مشکل ہے‏ ‏جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا۔‏ ‏پھر کون نجات پائے گا؟‏ ‏جو انسان کے لئے ناممکن ہے،‏ ‏اللہ تعالےٰ کے لئے ممکن ہے۔‏ ‏تو بتائیے کب آئے گی، یہ اللہ کی بادشاہی؟‏ ‏اللہ کی بادشاہی ایسی نہیں جو دیکھی جا سکے۔‏ ‏کوئی بھی نہیں کہے گا‏ ‏کہ دیکھو اللہ کی بادشاہی یہاں ہے یا وہاں۔‏ ‏کیونکہ وہ اس وقت تمہارے ساتھ ہے۔‏ ‏وہ وقت آئے گا کہ تم میری آمد کی آروز کرو‏ ‏گے لیکن مجھے دیکھ نہیں پاؤ گے۔‏ ‏جیسے آسمان پر بجلی چمکتی ہوئی ایک سمت سے‏ ‏دوسری سمت چلی جاتی ہے۔‏ ‏میری آمد بھی ایسے ہی ہوگی۔‏ ‏لیکن ضرور ہے کہ میں پہلے دُکھ اُٹھاوں اور‏ ‏اس زمانے کے لوگ مجھے رد کردیں۔‏ ‏مُبارک ہیں وہ آنکھیں جو ان چیزوں کو دیکھتی‏ ‏ہیں، جو تم دیکھ رہے ہو۔‏ ‏کیوں کہ بہت سے انبیاء اور بادشاہوں نے‏ ‏آرزو کی، مگر نہ دیکھ پائے۔‏ ‏نہہی وہ سُن پائے جو تُم سُن رہے ہو۔‏ ‏ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏ ‏توریت کیا کہتی ہے؟ اور تم نے کیا سمجھا ہے؟‏ ‏اللہ تعالےٰ سے محبت کر، اپنے پورے دل‏ ‏ساری جان، ساری طاقت‏ ‏اور ساری عقل سے‏ ‏اور پڑوسی سے اپنی مانند محبت کر۔‏ ‏ٹھیک کہا یہی کر اور جیتا رہ۔‏ ‏میرا پڑوسی کون ہے؟‏ ‏سپاہی تو نہیں ہو سکتے۔‏ ‏کیا رومی بادشاہ میرا پڑوسی ہوسکتا ہے؟‏ ‏ایک شخص یروشلم سے اریحہ کی طرف جا رہا تھا‏ ‏کہ ڈاکووں نے اُسے گھیر لیا، اُسے مار مار‏ ‏کر ادھ مُوا کر دیا اور چھوڑ کر چلے گئے۔‏ ‏ایسے ہوا کہ ایک یہودی امام کا‏ ‏اُس راہ سے گزر ہوا۔‏ ‏جب اس نے اُس زخمی شخص‏ ‏کو دیکھا تو کترا کر چل دیا۔‏ ‏تھوڑی دیر بعد ایک مؤذن وہاں سے گُزرا۔‏ ‏زخمی کے پاس جا کر اُسے دیکھا‏ ‏لیکن اُس نے بھی اپنی راہ لی۔‏ ‏لیکن جب حقیر سمجھی جانے والی سامری قوم کا‏ ‏ایک شخص وہاں سے گزرا۔‏ ‏تو زخمی کو دیکھ کراس کا دل بھر آیا۔‏ ‏سامری نے اس شخص کے زخموں پر‏ ‏مرہم لگا کر پٹی باندھی۔‏ ‏اور اپنی سواری پر بٹھا کر شفا خانےلے گیا۔‏ ‏اگلے دن وہ پھر گیا اور طبیب کو‏ ‏اس کا خرچ ادا کیا۔‏ ‏اور کہا کہ جب میں واپس آؤں گا تو اس پر اور‏ ‏جو خرچہ ہوگا میں وہ بھی ادا کروں گا۔‏ ‏اب بتاؤ، ڈاکووں کے ہاتھوں‏ ‏زخمی ہونے والے شخص کے ساتھ‏ ‏ان تینوں میں سے کس نے‏ ‏پڑوسیوں والا سلوک کیا؟‏ ‏جو اُس پر مہربان ہوا۔‏ ‏تُم بھی یوں ہی کرو۔‏ ‏بچوں کو میرے پاس آنے دو، انہیں منع نہ کرو۔‏ ‏اللہ کی بادشاہت ایسوں ہی کی ہے۔‏ ‏میں تم سے سچ کہتا ہوں‏ ‏کہ جو اللہ کی بادشاہی کو بچے کی طرح قُبول‏ ‏نہیں کرتا وہ اُس میں داخل بھی نہیں ہوگا۔‏ ‏ان بچّوں کو قبول کرنے والا‏ ‏گویا مُجھے قبول کرتا ہے۔‏ ‏مجھے قبول کرنا‏ ‏میرے بھیجنے والا کو قبول کرتا ہے۔‏ ‏تُم میں جو سب سے چھوٹا ہے‏ ‏وہی سب سے بڑا ہے۔‏ ‏ارے بھائی یہ کیا ہو رہا ہے؟‏ ‏عیسیٰ المسیح ناصری یہاں سے گزر رہے ہیں۔‏ ‏المسیح!‏ ‏ابنِ داود! مجھ پر رحم کر۔‏ ‏اے ابنِ داود! مجھ پر رحم کر۔‏ ‏-کیا چاہتے ہو بابا؟‏ ‏-میں پھر سے دیکھنا چاہتا ہوں۔‏ ‏لو دیکھو‏ ‏تمہارے ایمان نے تمہیں شِفاء بخشی۔‏ ‏میں دیکھ سکتا ہوں۔‏ ‏میں دیکھ سکتا ہوں۔‏ ‏میں دیکھ سکتا ہوں۔‏ ‏یااللہ تیرا شکر ہے۔ میں دیکھ سکتا ہوں۔‏ ‏جب حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم کی طرف تشریف‏ ‏لے جا رہے تھے،‏ ‏تو جگہ جگہ آپ کا ایک بڑی‏ ‏بھیڑ سے واسطہ پڑتا۔‏ ‏لوگ آپ سےکہتے کہ ہمیں راہ ِ نجات دکھائیں‏ ‏اور ہمیں مملکت الٰہیہ سے متعلق اور بتائیں۔‏ ‏یہ ضرور کوئی نبی ہے۔‏ ‏مولا مجھے بچا لیجئے۔‏ ‏مولا ہمیں بچا لیجئے۔‏ ‏الحمدُللہ۔‏ ‏مالک، ہمیں سیدھی راہ دکھائیے۔‏ ‏ایک محصول لینے والا شخص زکائی‏ ‏آپ کو دیکھنے درخت پر جا چڑھا‏ ‏کیونکہ لوگ عیسیٰ المسیح کو‏ ‏مولا تسلیم کرنے لگ گئے تھے۔‏ ‏یہ ہے وہ محصول لینے والا۔‏ ‏زکائی نیچے آؤ۔ آج میں تمہارے گھر چلوں گا۔‏ ‏میرے گھر۔۔۔؟‏ ‏اس کے گھر میں جانا کون پسند کرے گا؟‏ ‏زکائی، حضرت عیسیٰ المسیح کو کیسے جانتا ہے؟‏ ‏سُنیے۔‏ ‏میں اپنے مال کا آدھا حصّہ‏ ‏غریبوں کو دیتا ہوں۔‏ ‏اور اگر کسی کا ناحق لے لیا‏ ‏تو چار گُنا واپس دیتا ہوں۔‏ ‏واہ! واہ! حیرت ہے۔‏ ‏محصول لینے والا لوگوں‏ ‏کے پیسے واپس لوٹا رہا ہے۔‏ ‏آج زکائی کے گھر میں نجات آئی ہے۔‏ ‏کیونکہ یہ بھی اولادِ ابراہیم میں سے ہے۔‏ ‏مسیحا گناہ گاروں کو ڈھونڈنے اور‏ ‏نجات دینے آیا ہے۔‏ ‏سُنو!‏ ‏ہم یروشلیم جارہے ہیں۔‏ ‏جہاں میرے متعلق تمام پیشن گوئیاں‏ ‏پوری ہوں گی۔‏ ‏مجھے غیر قوموں کے حوالے کیا جائے گا۔‏ ‏وہ میرا مذاق اڑائیں گے۔ لوگ میری شان میں‏ ‏گستاخی کریں گے اور میرا مذاق اڑائیں گے۔‏ ‏وہ مجھے قتل کردیں گے۔‏ ‏اور تیسرے دن میں جی اُٹھوں گا۔‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح نے یہ جانتے ہوئے بھِی کہ‏ ‏انہیں مار دیا جائے گا یروشلیم کی راہ لی۔‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح جب گدھے پر‏ ‏سوار ہو کر جا رہے تھے،‏ ‏تو لوگ خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ‏ ‏آپ بادشاہ ہیں۔‏ ‏اپنے شاگردوں سے کہئیے کہ خاموش رہیں۔‏ ‏میں بتاوں، اگر یہ خاموش ہوگئے۔‏ ‏تو پھر پتھر چلانا شروع کردیں گے۔‏ ‏آسمان پر خدا تعالے کی تمجید ہو۔‏ ‏جب حضرت عیسیٰ المسیح‏ ‏یروشلیم کے قریب تشریف لائے،‏ ‏تو اُس پر نگاہ کر کے رونے لگے۔‏ ‏اے یروشلیم!‏ ‏کاش کہ تو سلامتی کی باتوں کو‏ ‏جانتا مگر تو نے ایسا نہ کیا۔‏ ‏وہ دن آئیں گے جب تیرے دُشمن‏ ‏تیرے گرد مورچہ باندھ کر تجھے گھیر لیں گے۔‏ ‏اور ہر طرف سے گھیرا تنگ کردیں گے؟‏ ‏ان ہی دیواروں کے اندر تباہ کر ڈالیں گے۔‏ ‏تجھے اور تیرے بچوں کو۔‏ ‏وہ تیری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے،‏ ‏اس لئے کہ تُو نے اپنی نجات‏ ‏کے وقت کو نہیں پہچانا۔‏ ‏یروشلم میں بیت المقدس جائے عبادت کے بجائے‏ ‏تجارت کا مرکز بن گیا تھا۔‏ ‏بارہ، تیرہ، چودہ، پندرہ،‏ ‏سولہ، سترہ، اٹھارہ،‏ ‏انیس، بیس، اکیس، بائیس،‏ ‏تئیس، چوبیس، پچیس۔۔۔‏ ‏چھبیس، ستائیس، اٹھائیس، انتیس، تیس،‏ ‏اکتیس، بتیس، تیتیس۔۔۔‏ ‏لکھا ہے کہ میرا گھر دُعا کا گھر کہلائے گا۔‏ ‏مگر تم نے اُسے ڈاکوئوں کی کھوہ بنا دیا ہے۔‏ ‏وہ میرے جانوروں کی طرف آ رہا ہے۔‏ ‏روکو اُسے۔‏ ‏اُسے روکو۔‏ ‏سپاہیوں کو بلاؤ! سپاہیوں کو بلاؤ!‏ ‏کچھ سیاسی اور مذہبی لوگوں کی وجہ سے‏ ‏مخالفت بڑھنے لگی۔‏ ‏کیونکہ لوگ حضرت عیسیٰ المسیح کو‏ ‏بادشاہ کہہ رہے تھے۔‏ ‏میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں نے اسے‏ ‏بادشاہ مان لیا ہے۔‏ ‏بادشاہ؟‏ ‏بھکاریوں اور ڈاکووں کا بادشاہ؟‏ ‏ایسے بہت دیکھے ہیں۔‏ ‏آ کر دعوےٰ کرتے اور چلے جاتے ہیں۔‏ ‏لوگ بھول جاتے ہیں۔‏ ‏اندھے مت بنو۔ اُس کے پیروکار بڑھ رہے ہیں۔‏ ‏لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔‏ ‏اور اُسے بادشاہ سمجھتے ہیں۔‏ ‏میں تمہیں خبردار کرتا ہوں۔‏ ‏اگر یہ شخص جھگڑے فساد کا سبب ہوا‏ ‏تو اس کے ذمے دار تم ہوگے۔‏ ‏شاید یہ ٹھیک ہے۔‏ ‏ہمیں عیسیٰ کا مقابلہ کرنا ہو گا۔‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح روز بروز علمائے یہود اور‏ ‏فقہاء کے خلاف بولتے رہے۔‏ ‏آپ فرماتے تھے کہ‏ ‏وہ شریعت کی تعلیم تو دیتے ہیں،‏ ‏مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔‏ ‏عیسیٰ المسیح نے بیت المقدس میں ایک بیوہ کو‏ ‏دو پیسے کا ہدیہ دیتے ہوئے دیکھا۔‏ ‏یہ تو بہت تھوڑا ہے۔‏ ‏تھوڑا تو اور دے۔‏ ‏میں بتاتا ہوں،‏ ‏اس بیوہ نے سب سے زیادہ نذرانہ دیا ہے۔‏ ‏باقی لوگوں نے تو اپنی دولت میں سے بچا ہوا‏ ‏نذرانے میں دیا ہے۔‏ ‏لیکن اس غریب بیوہ کے پاس‏ ‏زندہ رہنے کے لئے جتنا بھی تھا،‏ ‏وہ سارے کا سارا نذرانے میں دے دیا۔‏ ‏ہمیں بتاؤ‏ ‏یہ باتیں کہنے کا تمہیں کیا حق حاصل ہے؟‏ ‏کس نے تمہیں اختیار دیا؟‏ ‏اب میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔‏ ‏تم یہ بتاؤ کہ یحییٰ کو کس نے اختیار دیا‏ ‏تھا کہ وہ لوگوں کو اصطباغ دے؟‏ ‏ہم کیا کہیں؟‏ ‏اگر کہیں کہ اللہ نے دیا تھا تو پھر یہ‏ ‏پوچھے گا، یحییٰ کو کیوں نہ مانا؟‏ ‏اگر کہیں انسان کی طرف سے تھا‏ ‏تو لوگ پتھر ماریں گے۔‏ ‏کیونکہ وہ یحییٰ کو نبی مانتے ہیں؟‏ ‏ہمیں کیا پتہ کس کی طرف سے تھا۔‏ ‏تو میں بھی نہیں بتاتا کہ‏ ‏یہ اختیار مجھے کس نے دیا ہے۔‏ ‏ایک دفعہ کسی شخص نے انگوروں کا باغ لگایا‏ ‏اور اُسے ٹھیکے پر دے دیا‏ ‏اور لمبے عرصے کےلئے کہیں چلا گیا۔‏ ‏جب انگور جمع کرنے کا وقت آیا‏ ‏تو اس نے ایک نوکر کو بھیجا۔‏ ‏کہ جا کر اپنے مالک کا حصّہ لےآئے۔‏ ‏لیکن ٹھیکے داروں نے اس نوکر کو‏ ‏مار پیٹ کر بھیج دیا۔‏ ‏اس نے دوسرا نوکر بھیجا۔‏ ‏لیکن ٹھیکے داروں نے اسے بھی بُری طرح پیٹا،‏ ‏دھمکایا اور خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔‏ ‏تب اُس نے تیسرا نوکر بھیجا۔‏ ‏لیکن ٹھیکے داروں نے اُس پر بھی ظلم ڈھایا۔‏ ‏پھر اس نے کہا "اب مِں کیا کروں؟‏ ‏اب میں اپنے عزیز‏ ‏فرزند کو بھیج کر دیکھتا ہوں۔"‏ ‏شاید اس کا لحاظ کریں۔‏ ‏مالک کے بیٹے کو آتے دیکھ کر ٹھیکے دار ایک‏ ‏دوسرے سے کہنے لگے‏ ‏یہ تو مالک کا بیٹا ہے۔‏ ‏چلو اسے مار ڈالیں،‏ ‏جائداد ہماری ہو جائے گی۔‏ ‏پھر کیا ہوا مولا؟ اور بتائیے۔‏ ‏انہوں نے اُسےباغ سے باہر دھکیلا‏ ‏اور قتل کر دیا۔‏ ‏تمہارے خیال میں باغ کا مالک ٹھیکے داروں‏ ‏کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟‏ ‏وہ آکر انہیں مارے گا اور اپنا باغ دوسرے‏ ‏ٹھیک داروں کو دے دے گا۔‏ ‏تو پھر اس آیت کے کیا معانی ہیں؟‏ ‏کہ جس پتھر کو معماروں نے‏ ‏بیکار جان کر ردّ کردیا،‏ ‏وہی پتھر سنگ ِ بنیاد ٹھہرا۔‏ ‏جو اس پتھر پر گرے گا ٹوٹ کر‏ ‏ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔‏ ‏اور اگر وہ پتھر کسی پر گر پڑا‏ ‏تو اُسے پیس کر رکھ دے گا۔‏ ‏اُستاد، ہمیں پتہ ہے آپ جو تعلیم دیتےہیں‏ ‏وہ درست ہے۔‏ ‏ہمیں یہ بھی پتہ ہے آپ کا مقصد‏ ‏انسان کو خوش کرنا نہیں۔‏ ‏آپ انسان کے بارے میں‏ ‏اللہ کی مرضی سکھاتے ہیں۔‏ ‏ہمیں بتائیےکیا شریعت موسوی ہمیں اجازت دیتی‏ ‏ہے کہ رومی حکمران کو محصول ادا کیا جائے؟‏ ‏مولا یہ آپ کو پھنسانا چاہتا ہے۔‏ ‏مجھے چاندی کا ایک سکہ دکھاؤ۔‏ ‏اس پر تصویر اور نام کس کا ہے؟‏ ‏قیصر۔‏ ‏تو پھر جو قیصر کا ہے، وہ قیصر کو دو۔‏ ‏جو اللہ کا ہے، وہ اللہ تعالےٰ کو دو۔‏ ‏اب بتاؤ علمائے دین۔‏ ‏اب اہلِ یہود کی وہ عید قریب تھی جو مصر سے‏ ‏آزادی کی یاد میں منائی جاتی تھی۔‏ ‏اس عید کے دوران فسح کا بکرا ذبح‏ ‏کیا جاتا تھا۔‏ ‏چنانچہ حضرت عیسیٰ المسیح نے حضرت پطرس اور‏ ‏حضرت یوحنا کو‏ ‏آگے آگے بھیجا کہ وہ جا کر کھانا تیار کریں۔‏ ‏میں چاہتا تھا کہ دُکھ اُٹھانے سے پہلے ایک‏ ‏آخری کھانا تمہارے ساتھ کھاؤں۔‏ ‏یہ بات سمجھ لو، اب دوبارہ تمہارے ساتھ‏ ‏جنّت الفردوس میں ہی کھا سکوں گا۔‏ ‏اے پروردگار تو جو برکتوں والا ہے۔‏ ‏کائنات کا بادشاہ ہے۔‏ ‏جو انگور کی بیل سے پھل پیدا کرتا ہے۔‏ ‏یہ لو اور سب مل کر اس میں سے پی لو۔‏ ‏اب میں انگور کا یہ شربت تمہارے ساتھ جنت‏ ‏میں ہی پیوں گا۔‏ ‏اے ربِ کائنات تو جو بادشاہ ہے۔‏ ‏کائنات کا بادشاہ ہے۔‏ ‏تو زمین سے اناج اُگاتا ہے۔‏ ‏اسے روٹی نہیں میرا بدن سمجھو جو تمہاری‏ ‏خاطر دیا جا رہا ہے۔‏ ‏ایسے ہی مجھے یاد کیا کرنا۔‏ ‏نئے عہد کے مطابق یہ پیالہ میرا خون ہے۔‏ ‏جو تمہارے گناہوں کی‏ ‏نجات کی خاطر بہایا جائے گا۔‏ ‏مجھے گِرفتار کروانے والا ہمارے‏ ‏ساتھ کھانا کھا رہا ہے۔‏ ‏مجھے تو مرنا ہی ہے کیونکہ یہ اللہ کی مرضی‏ ‏ہے لیکن افسوس میرے پکڑوانے والے پر۔‏ ‏کیا وہ شخص میں ہوں؟‏ ‏-مولا سے پوچھو وہ کون ہے؟‏ ‏-مولا وہ کون ہے؟‏ ‏میں آپ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‏ ‏تم میں جو بڑا ہے، وہ چھوٹا بنے۔‏ ‏قائد کے لئے لازم ہے کہ خادم کی طرح ہو۔‏ ‏کیونکہ بتاؤ بڑا کون ہے؟‏ ‏وہ جو بیٹھ کر کھاتا ہے؟‏ ‏یا وہ جو خدمت کرتا ہے؟‏ ‏یقیناً وہ ہی جو بیٹھتا ہے۔‏ ‏لیکن مجھے دیکھو تمہارے درمیان‏ ‏خادم کی حیثیت سے ہوں۔‏ ‏میرے سب آزمائشوں میں تُم‏ ‏میرے ساتھ شریک رہے ہو۔‏ ‏میرے آسمانی باپ نے مجھے‏ ‏عدالت کرنے کا جو اختیار بخشا ہے،‏ ‏وہی اختیار میں تمہیں دوں گا۔‏ ‏جنت الفردوس میں‏ ‏تُم میرے ساتھ کھاؤ پیئو گے۔‏ ‏اور میرے ساتھ مل کر بنی اسرائیل کے‏ ‏١٢ قبائل کا انصاف کرو گے۔‏ ‏پھر تو ہم میں کوئی غدّار نہیں۔‏ ‏شمعون، شمعون، سنو۔‏ ‏شیطان نے بہت کوشش کی‏ ‏کہ تم سب کو گیہوں کی طرح پھٹکے،‏ ‏اور تمہارے ایمان کا امتحان لے۔‏ ‏لیکن میں نے دُعا مانگی‏ ‏کہ تمہارا ایمان قائم رہے۔‏ ‏جب میری طرف واپس پلٹو،‏ ‏تو اپنے بھائیوں کو مضبوط کرنا۔‏ ‏مولا، میں آپ کے ساتھ جیل جانے‏ ‏بلکہ مرنے کو تیار ہوں۔‏ ‏سنو پطرس، آج مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تم‏ ‏تین بارمجھے پہچاننے سے انکار کرو گے۔‏ ‏جب میں نے تُمہیں بغیر بٹوے کے بھیجا‏ ‏تو کیا کوئی کمی ہوئی؟‏ ‏نہیں، بالکل نہیں۔‏ ‏لیکن اب جس کے پاس بٹوا یا تھیلا ہے، لے لے۔‏ ‏اور جس کسی کے پاس تلوار نہیں ہے،‏ ‏وہ خرید لے۔‏ ‏میں بتا رہا ہوں۔ پاک کلام میں لکھا ہے کہ‏ ‏"اُس کا شمار خطا کاروں کے ساتھ ہوا۔‏ ‏اور ضرور ہے کہ میری بابت‏ ‏جو لکھا ہے پورا ہو۔"‏ ‏یہ دیکھئے۔ یہاں دو تلواریں ہیں مالک۔‏ ‏نہیں سمجھے تم۔‏ ‏اہل یہود کے بزرگوں کی مجلس‏ ‏یہ فیصلہ کرنے کے لئے اکٹھی ہوئِی‏ ‏کہ عیسیٰ سے کیسے جان چھڑائی جائے۔‏ ‏تب یہوداہ میں جو اسکریوتی بھی کہلاتا تھا‏ ‏ابلیس سما گیا۔‏ ‏وہ ١٢ شاگردوں میں سے ایک تھا۔‏ ‏اُس نے اس مجلس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے حضرت‏ ‏عیسیٰ المسیح کو پکڑوانے کا منصوبہ بنایا۔‏ ‏اُدھر حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم سے کوہِ‏ ‏زیتوں کی طرف دُعا کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔‏ ‏دُعا کرو تا کہ کسی آزمائش میں نہ پڑو۔‏ ‏یہوداہ اسکریوتی نے چاندی کے صرف ٣٠ سکوں‏ ‏کے عوض حضرت عیسیٰ المسیح کو بیچ ڈالا۔‏ ‏عیسیٰ المسیح جانتے تھے کہ‏ ‏میری موت کا وقت آ گیا ہے۔‏ ‏تاکہ میری موت کے وسیلے سے گناہ‏ ‏گار انسان کی زندگی ہلاکت سے بچ جائے۔‏ ‏چنانچہ آپ نے دعا کی۔‏ ‏آسمانی باپ! اگر تیری مرضی ہو،‏ ‏تو یہ آزمائش مجھ سے ہٹا لے۔‏ ‏نہیں تو میں کہتا ہوں،‏ ‏کہ میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو۔‏ ‏اِس دوران آسمان سے ایک فرشتہ آپ کو‏ ‏تقویت دینے کے لئے اترا۔‏ ‏اُس وقت آپ کا پسینہ گویا خون کی‏ ‏بوندیں بن بن کر زمین پر ٹپک رہا تھا۔‏ ‏تُم لوگ کیوں سو رہے ہو؟‏ ‏اُٹھو۔‏ ‏اور دُعا مانگو کہ کسی آزمائش میں نہ پڑو۔‏ ‏یہوداہ۔‏ ‏تم اس بوسے کے ذریعے مجھے پکڑواؤ گے؟‏ ‏مولا، کیا ہم تلوار چلائیں؟‏ ‏-اسے گرفتار کرلو۔‏ ‏-بس بہت ہوگیا۔‏ ‏واہ، معجزہ۔‏ ‏کیا میں مجرم ہوں جو تلواریں اور‏ ‏لاٹھیاں لے کر مجھے گرفتار کرنے آئے ہو؟‏ ‏جب میں بیت المقدّس میں تہمارے ساتھ تھا‏ ‏اس وقت کیوں نہ گرفتار کر لیا؟‏ ‏تمہارے کام کرنے کا وقت یہی ہے۔‏ ‏جب تاریکی کا راج ہو۔‏ ‏پکڑ لو اِسے۔‏ ‏دیکھنا، بھاگنے نہ پائے۔‏ ‏سپاہی آپ کو قلعے کے صحن میں لے گئے‏ ‏اور یہودیوں کا بادشاہ کہتے ہوئے‏ ‏آپ کا تمسخُر اڑانے لگے۔‏ ‏یہ شاہی چوغہ ہے۔‏ ‏ذرا پیش گوئی فرمائیے، اب کیا ہوگا؟‏ ‏ارے بادشاہ سلامت، کیا آپ ہمیں بچائیں گے؟‏ ‏یہ شخص تو عیسیٰ کے ساتھ تھا۔‏ ‏بی بی، میں اُسے نہیں جانتا۔‏ ‏میں نے انہیں اکھٹے دیکھا تھا۔‏ ‏آپ کا ادنٰی خادم، بادشاہ سلامت۔‏ ‏اب بتائیے، بادشاہ بننا کیسا لگتا ہے؟‏ ‏تُم بھی اُن کے ساتھی ہو نا؟‏ ‏نہیں، میں نہیں ہوں۔‏ ‏یہ آدمی بھِی اس کا ساتھ تھا،‏ ‏کیونکہ یہ بھی جلیلی لگ رہا ہے۔‏ ‏-ارے ہٹو۔‏ ‏-نہیں نہیں۔ آپ کو غلط فہمی ہوئِی ہے۔‏ ‏جب عیسیٰ المسیح نے پیچھے مُڑ کر‏ ‏حضرت پطرس پر نگاہ کی‏ ‏تو حضرت پطرس کو یاد آیا‏ ‏کہ عیسیٰ المسیح نے‏ ‏اُن کے بارے میں کیا فرمایا تھا۔‏ ‏"کہ آج اس وقت تک مرغ بانگ نہیں دے گا‏ ‏جب تک تم تین بار میرا انکار نہ کردو۔"‏ ‏یا اللہ! مجھ پر رحم فرما۔‏ ‏تو رحیم و کریم ہے۔‏ ‏میرا گناہ دھو ڈال، مجھے معاف کردے۔‏ ‏تو سچ کو پیار کرتا ہے۔‏ ‏میرے دل کو صاف کردے، میرے رب۔‏ ‏میرے دل کو پھر سے وہ اطمینان دے دے،‏ ‏جو صرف تو دے سکتا ہے۔‏ ‏مجھے ایمان پر قائم رہنے کی ہمت دے‏ ‏تاکہ میں تیرا فرماں بردار رہو۔‏ ‏-بتا کس نے مارا؟‏ ‏-پیش گوئی کرو۔‏ ‏اب کون مارے گا؟‏ ‏بس کرو۔‏ ‏میں نے کہا، رک جاؤ۔ اسے مجلس میں لے کر آؤ۔‏ ‏چلو۔‏ ‏علمائے یہود کی مجلس میں حضرت عیسیٰ المسیح‏ ‏سے سوالات ہونے لگے۔‏ ‏ہمیں بتا کہ کیا مسیحا تو ہی ہے؟‏ ‏اگرمیں بتاؤں، تو تم یقین نہیں کروگے۔‏ ‏اور اگر میں سوال پوچھوں،‏ ‏تو تُم جواب نہیں دو گے۔‏ ‏لیکن اب سے میں اللہ تعالےٰ کے‏ ‏داہنے ہاتھ بیٹھوں گا۔‏ ‏تو کیا تُم ابن اللہ ہو؟‏ ‏ہاں میں ہوں۔‏ ‏اسے یہ سب کہنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟‏ ‏یہ مجرم ہے۔‏ ‏ہم نے خود اس کے منہ سے سُنا ہے۔‏ ‏اِسے پیلاطس کے پاس لے چلیں۔‏ ‏ہاں، ہاں، اِسے پیلاطس کے پاس لے چلو۔‏ ‏چلو۔‏ ‏اور وہ المسیح کو پیلاطُس کے پاس لے گئے۔‏ ‏جو رومی حکمرانوں مِں سب سے‏ ‏زیادہ ظالم گورنر تھا۔‏ ‏وہ ہزاروں لوگوں کو صلیب پر‏ ‏کیلوں سے جڑنے کی اذیت ناک موت دے چکا تھا۔‏ ‏اس وقت صبح سویرے یہاں کیا لینے آئے ہو؟‏ ‏یہ مجرم ہے، اور لوگوں کو ورغلاتا ہے۔‏ ‏اس نے بیت المقدّس کے بازار میں بھی‏ ‏ہل چل مچا دی تھی۔‏ ‏-اس کی سزا بتائیے؟‏ ‏-اِسے صلیب دو۔‏ ‏کیوں صلیب دوں؟ کوئی ٹھوس وجہ بتاؤ۔‏ ‏ٹھوس وجہ۔‏ ‏یہ مجرم ہے۔ ہم نے اسے کہتے سنا ہے کہ‏ ‏قیصر کو محصول مت دو۔‏ ‏یہ مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے‏ ‏اور بادشاہ کا بھی۔‏ ‏بادشاہ؟‏ ‏کیا تم یہودیوں کے بادشاہ ہو؟‏ ‏تم خود یہ کہہ رہے ہو۔‏ ‏یہ جلیل سے تبلیغ کرتا کرتا‏ ‏یہاں بھی آگیا ہے۔‏ ‏جلیل سے؟‏ ‏کیا یہ صوبہء جلیل سے ہے؟‏ ‏یہی بات ہے تو ہیرودیس فیصلہ کرے گا۔‏ ‏وہ آج کل یروشلیم میں ہی ہے۔‏ ‏لے جاؤ اِسے وہیں۔‏ ‏تمہارا کیا دعویٰ ہے؟ تُم کون ہو؟‏ ‏وہ کون لوگ ہیں جنہیں تم شاگرد کہتے ہو؟‏ ‏کئی لوگ کہتے ہیں کہ‏ ‏تُم معجزے بھی کرلیتے ہو۔‏ ‏میرے لئے کوئی معجزہ کرو۔‏ ‏بادشاہ سلامت! یہ لوگوں کو خراب کررہا ہے۔‏ ‏اور یہ خود کو کہتا ہے، بادشاہ۔‏ ‏یہ۔۔۔؟ اور بادشاہ۔۔۔؟‏ ‏بادشاہ سلامت!‏ ‏مارو اسے اچھی طرح۔‏ ‏اسے پیلاطس کے پاس بھیج دو۔‏ ‏یہ اُس کا صوبہ ہے۔‏ ‏یہ آدمی سزائے موت کے لائق نہیں ہے۔‏ ‏کہو تو میں اسے کوڑے لگوا کر چھوڑ دیتا ہوں۔‏ ‏حضور، آپ ہر عید پر ہماری قوم کا‏ ‏ایک قیدی آزاد کیا کرتے ہیں۔‏ ‏اِس سال برابّا کو چھوڑ دیں۔‏ ‏-ہاں۔ برابّا۔‏ ‏-اور اس سے اپنی جان چھڑائیں۔‏ ‏ہاں ہمیں برابّا چاہیے۔‏ ‏اِسے مصلوب کرو۔‏ ‏ہاں، اِسے مصلوب کرو۔‏ ‏تُم، اور سنو تُم۔ اِسے کوڑے مارو۔‏ ‏پیلاطس، انتظار کیا کر رہے ہو؟‏ ‏یہ عسییٰ المسیح ہیں۔‏ ‏تم انہیں اس قدر اذیت کیوں دے رہے ہو؟‏ ‏چھوڑ دو انہیں۔ یہ مسیحا ہیں۔‏ ‏انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔‏ ‏اٹھاؤ اِسے۔‏ ‏وہ چلا چلا کر کہتے رہے کہ‏ ‏عیسیٰ کو مصلوب کیا جائے۔‏ ‏پیلاطس نےلوگوں کے مطالبے سے‏ ‏مجبور ہو کر برابّا کو چھوڑ دیا۔‏ ‏اور حضرت عیسیِٰ المسیح‏ ‏کی موت کا فرمان جاری کردیا۔‏ ‏کہ آپ کو مصلوب کیا جائے۔‏ ‏پیچھے، پیچھے ہٹو۔ پیچھے ہٹو۔‏ ‏تم پیچھے ہٹو۔ پیچھے ہٹو۔‏ ‏دور رہو اُس سے۔‏ ‏پیچھے ہٹو۔ ہٹو پیچھے۔‏ ‏پیچھے، راستے سے ہٹو۔‏ ‏راستہ دو۔‏ ‏ہٹ جاؤ۔‏ ‏تم راستے سے ہٹو۔‏ ‏میں چلنےکا کہہ رہا ہوں تو چلو۔‏ ‏اٹھو۔‏ ‏پیچھے ہٹ جاؤ۔‏ ‏تُم۔۔۔ کیا نام ہے؟‏ ‏شعمون کرینی ہے، سرکار۔‏ ‏ادھر آؤ۔‏ ‏رسیاں کاٹو۔‏ ‏تُم یہ صلیب اٹھاؤ۔‏ ‏چلو، آگے بڑھو۔‏ ‏پیچھے۔‏ ‏پیچھے۔‏ ‏چھوڑ دو اِسے۔‏ ‏آگے بڑھو۔ راستہ دو۔‏ ‏پیچھے، پیچھے ہٹو۔‏ ‏ہٹ جاؤ پیچھے۔‏ ‏ہم آپ کے لئے رو رہے ہیں مولا۔‏ ‏یہ پی لیجئے۔ پی لیجئے۔۔۔‏ ‏پی لیجئے، مولا۔‏ ‏اے یروشلیم کی خواتین۔ تم میرے لئے مت رؤو۔‏ ‏بلکہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے رؤو۔‏ ‏کیونکہ اگر مجھ ہرے درخت کے ساتھ‏ ‏ایسا ہوسکتا ہے۔‏ ‏تو پھر تمہارے ساتھ کیوں نہ ہوگا؟‏ ‏اللہ آپ کے ساتھ ہو۔‏ ‏ہم آپ کے لئے دُعا کریں گے۔‏ ‏چلو۔‏ ‏اس طرف۔ چلو۔ جلدی۔‏ ‏جلدی۔‏ ‏چلو، چلو۔‏ ‏چلو، آگے بڑھو۔ جلدی۔‏ ‏چلو، اب چلو۔‏ ‏چلو، آگے بڑھو۔‏ ‏جلدی کرو۔‏ ‏چلو، یہ اٹھا کر کھڑے ہو جاؤ۔‏ ‏صلیبیں کھڑی کرو۔‏ ‏انہیں زمین میں ٹھوک دو۔‏ ‏بس۔ کھول دو رسیاں۔‏ ‏آسمانی باپ انہیں معاف کر۔‏ ‏یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں۔‏ ‏یہ دوسروں کو بچاتا تھا،‏ ‏اب خود کو بچا کر دکھائے۔‏ ‏اگر تم عیسیٰ المسیح ہو تو اپنے آپ کو بچاؤ۔‏ ‏صلیب سے نیچے اترو۔‏ ‏اب ہمیں اپنا کوئی معجزہ دکھاؤ۔‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح جب مصلوب ہوئے تو ان کے‏ ‏دائیں بائیں دو ڈاکو بھی مصلوب کیے گئے۔‏ ‏اور یہ اس پیش گوئی کی تکمیل تھِی،‏ ‏جو ایک نبی نے ہزاروں سال پہلے کی تھی۔‏ ‏بھئی یہ کوئی عام لباس نہیں ہے۔‏ ‏کھینچو نہیں، کھینچو نہیں۔ پھٹ جائے گا۔‏ ‏رکو، میں بتاتا ہوں کیا کرنا ہے۔‏ ‏چلو پرچیاں ڈالتے ہیں۔‏ ‏-میں ہی جیتوں گا۔‏ ‏-میرے نام کی بھی پرچی ڈالو۔‏ ‏نہیں، نہیں۔ یہ میں لے کر جاؤں گا۔‏ ‏-یہ پکڑاؤ مجھے۔‏ ‏-میں ہی جیتوں گا۔‏ ‏-ارے واہ! خوش قسمت۔ کیا کرو گے اِس کا؟‏ ‏-میں جیت گیا۔‏ ‏ایک تختی حضرت عیسیٰ المسیح کے‏ ‏سر کے اوپر لٹکا دی گئی۔‏ ‏جس پر لکھا تھا کہ یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے۔‏ ‏یہودیوں کا بادشاہ۔‏ ‏یہودیوں کے بادشاہ، اب اپنے آپ کو بچا۔‏ ‏کیا۔۔۔ تم۔۔۔ مسیحا۔۔۔‏ ‏نہیں۔ بچاؤ۔‏ ‏ہمیں اور اپنے آپ کو بھی۔‏ ‏کیا تمہیں اللہ کا کوئی خوف نہیں۔‏ ‏ہم بھی تو اسی سزا میں مبتلا ہیں۔‏ ‏مسیحا بے گُناہ ہیں۔‏ ‏عیسیٰ المسیح۔‏ ‏اپنی بادشاہی میں آئیں، تو مجھے یاد فرمانا۔‏ ‏میرا وعدہ ہے۔‏ ‏تم آج ہی جنت میں ہوگے۔‏ ‏میرے ساتھ۔‏ ‏یہ اگرچہ دوپہرکا وقت تھا‏ ‏لیکن اُس سارے علاقے میں تقریباً‏ ‏تین بجے تک تاریکی چھائی رہی۔‏ ‏اور بیت المقدس کا پردہ اُوپر سے نیچے تک‏ ‏دو حصوں میں چِر گیا۔‏ ‏آسمانی باپ۔‏ ‏میں اپنی رُوح۔۔۔‏ ‏تیرے ہاتھوں میں۔۔۔‏ ‏دیتا ہوں۔‏ ‏وہاں موجود صوبہ دار نے یہ ماجرا دیکھا‏ ‏تو اُس نے اللہ تعالےٰ کی تمجید‏ ‏یوں بیان کی۔‏ ‏تیری شان اوپر والے۔‏ ‏یہ شخص واقعی کوئی ولی تھا۔‏ ‏علمائے یہود کی مجلس کا ایک نیک رُکن‏ ‏یوسف ارمتیاہ‏ ‏اس کاروائی میں شریک نہیں تھا۔‏ ‏اُس نے پینطس پیلاطُس سے اجازت مانگی‏ ‏کہ اس سے پہلے کہ سورج غروب ہو کر‏ ‏عبادت یعنی ہفتے کے روز کا آغاز ہو،‏ ‏حضرت عیسیٰ کی لاش کو دفنانے کے لئے‏ ‏میرے حوالے کر دیا جائے۔‏ ‏آئیے مولا کی لاش کو‏ ‏دفنانے کے لیے تیار کریں۔‏ ‏میں بھی مدد کروں گا۔ لیکن جلدی کریں۔‏ ‏سبت کا دن شروع ہونے کو ہے۔ چلو، آ جاؤ۔‏ ‏وہ گھر گئیں اور سبت یعنی ہفتے کے دن‏ ‏جیسا کہ شریعت کے مطابق حکم تھا آرام کیا۔‏ ‏اتوار کو صبح سویرے وہ پھر قبر پر گئیں۔‏ ‏اُنہوں نے قبر سے پتھر کو ہٹا ہوا دیکھا‏ ‏اور قبر میں سے اپنے مولا کی‏ ‏لاش بھی غائب پائی۔‏ ‏تُم زندہ کو مردوں میں‏ ‏کیوں ڈھونڈتی پھر رہی ہو۔‏ ‏وہ یہاں نہیں بلکہ جی اٹھے ہیں۔‏ ‏یاد کرو جب حضرت عیسیِ المسیح‏ ‏جلیل میں تھے تو انہوں کیا فرمایا تھا۔‏ ‏کہ مسیحا گناہ گاروں کے حوالے کیا جائےگا،‏ ‏مصلوب ہوگا اور پھر تیسرے دن جی اُٹھےگا۔‏ ‏سنو، مولا کی قبر کھلی ہوئی ہے۔‏ ‏ہم اندر گئیں‏ ‏تو مولا کی لاش وہاں‏ ‏-نہیں تھی۔‏ ‏-کیا۔۔۔ لاش نہیں ہے؟‏ ‏وہاں دو مرد ظاہر ہوئے، وہ فرشتے تھے۔‏ ‏نور کی طرح روشن، ہم سے کہنے لگے‏ ‏تم زندہ کو مردوں میں کیوں ڈھونڈتی ہو؟‏ ‏یہ سچ ہے۔‏ ‏یقین کریں۔‏ ‏ہمارایقین کریں۔‏ ‏ہمارا یقین نہیں تو خود دیکھ لو۔‏ ‏قبر خالی تھی۔‏ ‏اور مولا جا چکے تھے۔‏ ‏پطرس آپ تو یقین کریں۔‏ ‏اس کے بعد عیسیٰ المسیح اپنے دو اور‏ ‏شاگردوں پر ظاہر ہوئے۔‏ ‏تو وہ بھی نہایت خوشی کے ساتھ‏ ‏دوسرے شاگردوں کی طرف بھاگے۔‏ ‏یقیناً مولا جی اُٹھے ہیں۔‏ ‏شمعون نے بھی دیکھا ہے۔‏ ‏ہم نے تو انہیں راستے میں بھی‏ ‏نہیں پہچانا۔ ہمارے ساتھ روٹی توڑی‏ ‏تب پہچانا۔‏ ‏اماوس کی راہ پر۔‏ ‏حیرت ہے وہاں کیسے پہنچ گئے۔‏ ‏السلام علیکم!‏ ‏تُم پریشان کیوں ہو؟‏ ‏تُم کیوں شک کر رہے ہو؟‏ ‏دیکھو۔ میرے زخمی ہاتھ اور پاؤں دیکھو۔‏ ‏دیکھو میں مسیحا ہی ہوں۔‏ ‏چُھو کر دیکھو یقین ہوجائے گا۔‏ ‏روح کا گوشت اور ہڈیاں نہیں ہوتیں،‏ ‏میری ہیں۔‏ ‏یہ سب وہی باتیں ہیں جو میں نے‏ ‏تمہارے ساتھ رہ کر کہی تھیں۔‏ ‏میرے بارے میں جو کچھ بھی توریت اور‏ ‏زبور شریف میں لکھا ہے‏ ‏اُسے سچ ثابت ہونا ہی تھا۔‏ ‏اور لکھا ہوا ہے کہ‏ ‏مسیحا ضروردُکھ اٹھائے گا۔‏ ‏اور تیسرے دن مردوں میں سے جی اُٹھے گا۔‏ ‏مسیحا کے نام سے۔ توبہ اور گناہوں کی معافی‏ ‏کی تبلیغ سب قوموں میں ہونی ضروری ہے۔‏ ‏آغاز یروشلیم سے ہو گا۔‏ ‏تُم ان سب باتوں کے گواہ ہو۔‏ ‏میرا آسمانی باپ وعدے کے مطابق‏ ‏روح پاک تم پر بھیجے گا۔‏ ‏یروشلیم میں انتظار کرنا۔‏ ‏جب تک روح پاک کی طرف سے قوت نہ مل جائے۔‏ ‏فی امان اللہ، سلامت رہو۔‏ ‏زمین اور آسمان کا کُل اختیار‏ ‏مجھے دیا گیا ہے،‏ ‏پس تم جاؤ اور ساری قوموں میں تبلیغ کرو۔‏ ‏اور انہیں باپ، اور بیٹے اور رُوحِ پاک‏ ‏کے نام سے اصطباغ دو۔‏ ‏اور ان کو یہ تعلیم دو کہ‏ ‏جن باتوں کا میں نے تمہیں حُکم دیا ہے،‏ ‏اُن سب پر عمل کریں۔‏ ‏اور میں یقیناً ہمیشہ‏ ‏یعنی دنیا کے آخر تک تمہارے ساتھ ہوں۔‏ ‏انبیائے کرام کی معرفت‏ ‏اللہ تعالےٰ نے فرمایا‏ ‏کہ وہ نسل آدم کے گناہوں کی‏ ‏معافی کے لئے ایک مسیحا بھیجے گا۔‏ ‏المسیح کی زندگی سے ظاہر ہوتا ہے‏ ‏کہ وہ نجات دہندہ آپ ہیں۔‏ ‏جسے اللہ نے دُنیا میں بھیجنے‏ ‏کا وعدہ کیا تھا۔‏ ‏حضرت یسعیاہ علیہ السلام نے فرمایا تھا‏ ‏"ایک کنواری بی بی امید سے ہوگی اور ایک‏ ‏بیٹے کو جنم دے گی۔"‏ ‏اور ایسا ہی ہوا۔‏ ‏حضرت مریم طاہرہ جو کہ ابھی کنواری تھیں‏ ‏خدا کی قدرت سے امید سے ہوئیں۔‏ ‏اور اُن سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی۔‏ ‏کلام اللہ میں آیا ہے کہ‏ ‏سب انسان گناہ گار ہیں‏ ‏اور گناہ کا انجام موت ہے۔‏ ‏گناہ گار انسان اللہ پاک کی قربت میں‏ ‏نہیں رہ سکتے۔‏ ‏لوگوں نے حضرت مسیح میں اللہ کی قدرت اور‏ ‏اس کی ذات کو دیکھا۔‏ ‏آپ نے لوگوں کو شفا بخشی۔‏ ‏اُن کے گناہ معاف فرمائے۔‏ ‏اور اُن سے وعدہ فرمایا کہ تُم ہمیشہ میرے‏ ‏ساتھ جنت میں رہو گے۔‏ ‏حضرت عیسیٰ المیسح نے رضا کارانہ طور پر‏ ‏نسلِ انسانی کے گناہوں کے لئے‏ ‏اپنی جان قربان کردی۔‏ ‏مرنے کے بعد آپ کا زندہ ہونا‏ ‏اس بات کا ثبوت ہے‏ ‏کہ آپ کی قدرت کے آگے موت بے بس ہے۔‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح نے فرمایا‏ ‏کہ "مجھے اپنی جان دے دینے اور‏ ‏پھر لے لینے کا بھِی اختیار ہے۔"‏ ‏عیسیٰ المسیح کی زندگی بالکل ویسی تھی،‏ ‏جیسی انبیاء کرام نے پیش گوئی کی تھی۔‏ ‏آپ کی زندگی سے یہ ثابت ہو گیا‏ ‏کہ ان انبیاء پر نازل ہونے والا کلام برحق‏ ‏اور لاتبدیل ہے۔‏ ‏انبیاء کرام نے فرمایا کہ کلام اللہ ہر‏ ‏عیب سے پاک اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔‏ ‏حضرت عیسیٰ کلامُ اللہ ہیں اور آپ کی ذات‏ ‏میں اللہ نے خود کو دنیا پر ظاہر کیا ہے۔‏ ‏ابتدا میں اللہ تعالےٰ نے مرد و زن یعنی‏ ‏حضرت آدم اور بی بی حوا کو پیدا کیا‏ ‏تاکہ وہ اس کی قدرت سے لطف اندوز ہو سکیں۔‏ ‏لیکن انہوں نے اللہ پر بھروسہ نہ کیا‏ ‏اور حکم عدولی کی۔‏ ‏یہی وجہ تھی کہ وہ اللہ تعالےٰ کی‏ ‏حضوری میں مزید نہ رہ سکے۔‏ ‏کلام اللہ میں آیا ہے کہ‏ ‏سب انسان گناہ گار ہیں۔‏ ‏اور گناہ کا انجام موت ہے۔‏ ‏گناہ گار انسان خدائے قدوس کی‏ ‏قربت میں نہیں رہ سکتے۔‏ ‏جس طرح اللہ نے ایک مینڈھا مہیا کیا‏ ‏کہ ابراہیم کے بیٹے کی جگہ قربان ہو،‏ ‏اُسی طرح اس نے حضرت المسیح کو‏ ‏اس دنیا میں بھیجا‏ ‏کہ نسلِ آدم کی جگہ قربان ہو۔‏ ‏آپ کی زندگی، موت اور جی اُٹھنے‏ ‏کی وجہ سے ایمان لانے والوں‏ ‏اور خدائے قدوس کے درمیان‏ ‏ٹوٹا ہوا رشتہ بحال ہوگیا۔‏ ‏حضرت پطرس نے فرمایا‏ ‏کہ حضرت عیسیٰ المسیح وہ واحد شخصیت ہیں جن‏ ‏کے متعلق سب انبیاء نے فرمایا‏ ‏ہر ایمان لانے والا گناہوں سے‏ ‏معافی پائے گا۔‏ ‏حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے والے ہمیشہ‏ ‏اللہ تعالےٰ کی قربت میں رہیں گے۔‏ ‏جی اٹھنے کے بعد مسیحا نے اپنے‏ ‏شاگردوں سے فرمایا‏ ‏کہ ساری قوموں میں میرے نام سے تبلیغ کرو۔‏ ‏کہ اللہ تعالےٰ ان سب کے‏ ‏گناہ معاف فرمائے گا،‏ ‏جو میرے مرنے اور جی‏ ‏اُٹھنے پر ایمان لائیں گے۔‏ ‏آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں اللہ تعالےٰ کا‏ ‏روح پاک بھیجوں گا‏ ‏وہ میرے شاگردوں کے ساتھ رہے گا۔‏ ‏اور اللہ تعالےٰ کی راہ پر چلنے کی‏ ‏توفیق بخشے گا۔‏ ‏ایک گناہ گار عورت جب توبہ کر کے‏ ‏آپ پرایمان لے آئی،‏ ‏تو عیسیٰ المیسح نے اس سے‏ ‏فرمای: "تمہارے گناہ معاف ہوئے۔"‏ ‏کیونکہ تم نے مجھ پر ایمان لا کر‏ ‏نجات پائی ہے۔‏ ‏حضرت عیسی نے فرمایا کہ معافی یافتہ لوگ ہی‏ ‏اللہ تعالےٰ کو سچے دل سے پیار کرتے ہیں۔‏ ‏حضرت عیسیٰ المسیح نے لوگوں کو دعوت دی‏ ‏کہ میری پیروی کرو۔‏ ‏جو لوگ حضرت عیسیٰ المسیح کی پیروی کرنے کا‏ ‏فیصلہ کر لیتے ہیں،‏ ‏وہ ان کے ساتھ اپنے تعلق‏ ‏کا اظہار دعا میں کچھ اس طرح کرتے ہیں۔‏ ‏آسمانی باپ تو صادق ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ‏ ‏تو نے مجھے ایسے پیار کیا‏ ‏جیسے باپ کرتا ہے۔‏ ‏مجھے افسوس ہے کہ میں نے‏ ‏تیری نافرمانی کر کے گناہ کیا۔‏ ‏تیرا شکر کہ تو نے عیسیٰ المسیح کو بھیجا‏ ‏جنہوں نے میرے گناہوں کی‏ ‏خاطر اپنی جان صلیب پر قربان کردی۔‏ ‏اور پھر مردوں میں سے جی اٹھے۔‏ ‏میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے‏ ‏گناہوں کی سزا اپنے اوپر لے لی۔‏ ‏میں تیری راہ پر چلنا چاہتا ہوں،‏ ‏اور عیسیٰ المسیح کو اپنا مولا اور‏ ‏نجات دہندہ تسلیم کرتا ہوں۔‏ ‏میں تیرا شکرکرتا ہوں کہ تو نے میرے‏ ‏گناہ معاف کردیئے،‏ ‏اور میرے لئے جنت کا دروازہ کھول دیا ہے‏ ‏کہ میں ہمیشہ تیرے ساتھ رہ سکوں۔‏ ‏اے باپ! مجھے اپنا روحِ پاک بخش دے‏ ‏جو میرے ساتھ رہے۔‏ ‏اور تیری راہ دکھائے۔‏ ‏تیرا روح پاک مجھے ہمت دے کہ‏ ‏میں اپنے سارے دل سے تجھے پیار کروں‏ ‏اور ایسی زندگی گزاروں جو تجھے پسند ہے۔‏ ‏دعا مانگتا ہوں، اے باپ کہ اس دنیا کا ہر‏ ‏انسان تیری حمد و ثنا کرے۔‏ ‏آمین۔ ثم آمین۔‏ ‏حضرت عیسیٰ یعنی یسوع المسیح نے فرمایا‏ ‏کہ میں اپنے لوگوں کو جانتا ہوں۔ وہ میری‏ ‏آواز سنتے اور میری پیروی کرتے ہیں۔‏ ‏عیسیٰ کے پیروکار ایک دوسرے سے رفاقت رکھتے‏ ‏اور انجیل کا ہر روز مطالعہ کرتے ہیں۔‏ ‏وہ آپ کی سنت پر چلتے‏ ‏اور آپ کی محبت کا دوسروں کو بیان کرتے ہیں۔‏ ‏عیسیٰ المسیح روح پاک کے‏ ‏وسیلے سے اپنے پیروکاروں کی مدد فرماتے‏ ‏اور انہیں مضبوط کرتے ہیں۔‏ ‏عیسیٰ المسیح کے پیروکار‏ ‏یہ بات یاد رکھتے ہیں‏ ‏کہ جب آپ مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد‏ ‏بادلوں پر جارہے تھے‏ ‏تو آپ نے اپنے پیروکاروں سے فرمایا تھا‏ ‏کہ "اللہ تعالےٰ نے آسمان اور زمین کا کُل‏ ‏اختیار مجھے بخش دیا ہے‏ ‏اور میں دُنیا کے آخر تک تمہارے ساتھ ہوں۔"‏
JesusFilm