یسوع40 از 61

انگوروں کا باغ اور کرایہ دار

یسوع دو اور آدمیوں کے درمیان لٹکایا جاتا ہے۔ اسکے شاگرد لاچار کھڑے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔ ان دو میں سے ایک آدمی نے یسوع سے دریافت کیا کہ کیا وہ مسیحا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خود کو بھی بچا اور ہمیں بھی بچا۔ دوسرا آدمی اس پہلے والے کو جواب دیتا ہے کہ وہ بھی اسی سزا کو بھگت رہا ہے گسے وہ بھگت رہے تھے لیکن یسوع بے گناہ تھا۔ اس نے یسوع سے درخواست کی کہ جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے بھی یاد کرنا۔ یسوع نے اس سے وعدہ کیا کہ تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔

اپنا سوال پوچھیں

بائبل اقتباسات

شیئر کریں
Luke 20:9-18

Then He proceeded to tell the people this parable: “A man planted a vineyard, rented it out to some tenants, and went away for a long time. At harvest time, he sent a servant to the tenants to collect his share of the fruit of the vineyard. But the tenants beat the servant and sent him away empty-handed. So he sent another servant, but they beat him and treated him shamefully, sending him away empty-handed. Then he sent a third, but they wounded him and threw him out. ‘What shall I do?’ asked the owner of the vineyard. ‘I will send my beloved son. Perhaps they will respect him.’ But when the tenants saw the son, they discussed it among themselves and said, ‘This is the heir. Let us kill him, and the inheritance will be ours.’ So they threw him out of the vineyard and killed him. What then will the owner of the vineyard do to them? He will come and kill those tenants and give the vineyard to others.” And when the people heard this, they said, “May such a thing never happen!” But Jesus looked directly at them and said, “Then what is the meaning of that which is written: ‘The stone the builders rejected has become the cornerstone’? Everyone who falls on this stone will be broken to pieces, but he on whom it falls will be crushed.”

Berean Standard Bible

Public Domain

مزید پڑھیں...
مفت وسائل

کیا آپ بائبل کو مزید گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں؟

ہماری بائبل اسٹڈی میں شامل ہوں

متن

Urdu (اردو)
‏ایک دفعہ کسی شخص نے انگوروں کا باغ لگایا‏ ‏اور اُسے ٹھیکے پر دے دیا‏ ‏اور لمبے عرصے کےلئے کہیں چلا گیا۔‏ ‏جب انگور جمع کرنے کا وقت آیا‏ ‏تو اس نے ایک نوکر کو بھیجا۔‏ ‏کہ جا کر اپنے مالک کا حصّہ لےآئے۔‏ ‏لیکن ٹھیکے داروں نے اس نوکر کو‏ ‏مار پیٹ کر بھیج دیا۔‏ ‏اس نے دوسرا نوکر بھیجا۔‏ ‏لیکن ٹھیکے داروں نے اسے بھی بُری طرح پیٹا،‏ ‏دھمکایا اور خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔‏ ‏تب اُس نے تیسرا نوکر بھیجا۔‏ ‏لیکن ٹھیکے داروں نے اُس پر بھی ظلم ڈھایا۔‏ ‏پھر اس نے کہا "اب مِں کیا کروں؟‏ ‏اب میں اپنے عزیز‏ ‏فرزند کو بھیج کر دیکھتا ہوں۔"‏ ‏شاید اس کا لحاظ کریں۔‏ ‏مالک کے بیٹے کو آتے دیکھ کر ٹھیکے دار ایک‏ ‏دوسرے سے کہنے لگے‏ ‏یہ تو مالک کا بیٹا ہے۔‏ ‏چلو اسے مار ڈالیں،‏ ‏جائداد ہماری ہو جائے گی۔‏ ‏پھر کیا ہوا مولا؟ اور بتائیے۔‏ ‏انہوں نے اُسےباغ سے باہر دھکیلا‏ ‏اور قتل کر دیا۔‏ ‏تمہارے خیال میں باغ کا مالک ٹھیکے داروں‏ ‏کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟‏ ‏وہ آکر انہیں مارے گا اور اپنا باغ دوسرے‏ ‏ٹھیک داروں کو دے دے گا۔‏ ‏تو پھر اس آیت کے کیا معانی ہیں؟‏ ‏کہ جس پتھر کو معماروں نے‏ ‏بیکار جان کر ردّ کردیا،‏ ‏وہی پتھر سنگ ِ بنیاد ٹھہرا۔‏ ‏جو اس پتھر پر گرے گا ٹوٹ کر‏ ‏ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔‏ ‏اور اگر وہ پتھر کسی پر گر پڑا‏ ‏تو اُسے پیس کر رکھ دے گا۔‏
JesusFilm