1 از 61یسوع · 61 ابواب

یسوع کی کہانی وسیع تر یہودی عیسائی روایت کےعین مُطابِق ہے .پیدائش کے بعد سےہر چیِذ کا مقصد یسوع کی زندگی کی طرف اشارہ کرنا ہے ۔تمام تخلیق خدا کی عظمت کا مُنہ بولتا ثبوُت ہے . خدا نے انسان اور عورت پیدا کیا وہ ہمیشہ اس کے ساتھ امن میں رہیں۔ لیکن اپنی نافرمانی کی وجہ سے بنی نوع انسان خدا سے الگ کر دیا گیا۔ لیکن خدا اب بھی بنی نوع انسان سے محبت کرتا تھا اِسی سبب سے کلام خدا میں دنیا کو بچانے کے لئے اس کی منصوبہ بندی کا پتہ چلتا ہے۔

اپنا سوال پوچھیں

بائبل اقتباسات

شیئر کریں
Genesis 1:26-27

Then God said, “Let Us make man in Our image, after Our likeness, to rule over the fish of the sea and the birds of the air, over the livestock, and over all the earth itself and every creature that crawls upon it.” So God created man in His own image; in the image of God He created him; male and female He created them.

Berean Standard Bible

Public Domain

مزید پڑھیں...
Genesis 3:7

And the eyes of both of them were opened, and they knew that they were naked; so they sewed together fig leaves and made coverings for themselves.

Berean Standard Bible

Public Domain

مزید پڑھیں...
Genesis 3:22-24

Then the Lord God said, “Behold, the man has become like one of Us, knowing good and evil. And now, lest he reach out his hand and take also from the tree of life, and eat, and live forever...” Therefore the Lord God banished him from the Garden of Eden to work the ground from which he had been taken. So He drove out the man and stationed cherubim on the east side of the Garden of Eden, along with a whirling sword of flame to guard the way to the tree of life.

Berean Standard Bible

Public Domain

مزید پڑھیں...
Genesis 22:1-18

Some time later God tested Abraham and said to him, “Abraham!” “Here I am,” he answered. “Take your son,” God said, “your only son Isaac, whom you love, and go to the land of Moriah. Offer him there as a burnt offering on one of the mountains, which I will show you.” So Abraham got up early the next morning, saddled his donkey, and took along two of his servants and his son Isaac. He split the wood for a burnt offering and set out for the place God had designated. On the third day Abraham looked up and saw the place in the distance. “Stay here with the donkey,” Abraham told his servants. “The boy and I will go over there to worship, and then we will return to you.” Abraham took the wood for the burnt offering and placed it on his son Isaac. He himself carried the fire and the sacrificial knife, and the two of them walked on together. Then Isaac said to his father Abraham, “My father!” “Here I am, my son,” he replied. “The fire and the wood are here,” said Isaac, “but where is the lamb for the burnt offering?” Abraham answered, “God Himself will provide the lamb for the burnt offering, my son.” And the two walked on together. When they arrived at the place God had designated, Abraham built the altar there and arranged the wood. He bound his son Isaac and placed him on the altar, atop the wood. Then Abraham reached out his hand and took the knife to slaughter his son. Just then the angel of the Lord called out to him from heaven, “Abraham, Abraham!” “Here I am,” he replied. “Do not lay a hand on the boy or do anything to him,” said the angel, “for now I know that you fear God, since you have not withheld your only son from me.” Then Abraham looked up and saw behind him a ram in a thicket, caught by its horns. So he went and took the ram and offered it as a burnt offering in place of his son. And Abraham called that place The Lord Will Provide. So to this day it is said, “On the mountain of the Lord it will be provided.” And the angel of the Lord called to Abraham from heaven a second time, saying, “By Myself I have sworn, declares the Lord, that because you have done this and have not withheld your only son, I will surely bless you, and I will multiply your descendants like the stars in the sky and the sand on the seashore. Your descendants will possess the gates of their enemies. And through your offspring all nations of the earth will be blessed, because you have obeyed My voice.”

Berean Standard Bible

Public Domain

مزید پڑھیں...
Psalm 19:1-2

For the choirmaster. A Psalm of David. The heavens declare the glory of God; the skies proclaim the work of His hands. Day after day they pour forth speech; night after night they reveal knowledge.

Berean Standard Bible

Public Domain

مزید پڑھیں...
مفت وسائل

کیا آپ بائبل کو مزید گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں؟

ہماری بائبل اسٹڈی میں شامل ہوں

متن

Urdu (اردو)
‏اللہ تعالےٰ پاک اور عظیم ہستی ہے۔‏ ‏اُس نے ابتدا میں ہر چیز اپنے کلام کے وسیلے‏ ‏سے خلق فرمائی۔‏ ‏جب ہم زمین و اسمان پر نگاہ ڈالتے ہیں،‏ ‏تو رب العالمین کی حمد کرتے ہیں،‏ ‏جو رحمان و رحیم ہے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ کی پیدا کردہ‏ ‏ہرایک چیز اچھی تھی،‏ ‏ہر چیز اللہ تبارک و تعالےٰ کی عظمت، بُزرگی‏ ‏اور قُدرت ظاہر کرتی تھی۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے پہلے قسم قسم کے پودے اور‏ ‏حیوانات پیدا کئے۔‏ ‏اس کے بعد خالق کائنات نے زمین کی خاک سے‏ ‏دنیا کے سب سے پہلے انسان کا پتلا بنا کر‏ ‏اُس میں رُوح پھونکی،‏ ‏تو وہ پتلا جیتا جاگتا انسان بن گیا۔‏ ‏یہ پہلے انسان آدم علیہ السلام تھے۔‏ ‏پھر خالق کائنات نے حضرت آدم پر‏ ‏گہری نیند بھیجی‏ ‏اور ان کی پسلیوں میں سے ایک نکال‏ ‏کر بی بی حوا کو بنایا۔‏ ‏اللہ تعالے نے حضرت آدم اور بی بی حوا کو‏ ‏اپنی شبیہ پر پیدا کیا‏ ‏اور ان کو ایک خوبصورت باغ،‏ ‏باغِ عدن میں رکھا۔‏ ‏تاکہ اللہ تعالے کی قربت‏ ‏میں مسرت اور شادمانی سے رہیں۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے حضرت آدم سے فرمایا‏ ‏باغ کے سب درختوں کا پھل تم کھا سکتے ہو‏ ‏لیکن شجر ممنوعہ کا پھل کھایا تو مرجاؤ گے۔‏ ‏ایک دن شیطان نے بی بی حوا کو‏ ‏وہ پھل کھانے کے لئے بہکایا۔‏ ‏یوں انہوں نے وہ پھل توڑ کر پہلےخود کھایا‏ ‏اور پھر حضرت آدم کو دیا۔‏ ‏انہوں نے اللہ تعالےٰ کی نافرمانی کی۔‏ ‏جس وجہ سے اللہ تعالے کے ساتھ‏ ‏ان کا تعلق ٹوٹ گیا۔‏ ‏کیونکہ اللہ تعالےٰ پاک ہے‏ ‏اور گنہگار اس کی قربت میں نہیں رہ سکتے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے حضرت آدم اور بی بی حوا‏ ‏کو باغِ عدن سے نکال دیا۔‏ ‏ان کی نافرمانی ان کے اور تمام نسلِ انسانی‏ ‏کے لئے موت کا پھندہ بن گئی۔‏ ‏لیکن غفور و رحیم رب نے‏ ‏نسلِ آدم کو اپنی رفاقت میں‏ ‏بحال کرنے کا منصوبہ بنایا۔‏ ‏تاکہ انسان پھر سے اُس کی قربت میں آ جائے۔‏ ‏کلام مقدس میں اللہ تعالےٰ نے بنی نوع انسان‏ ‏کے گناہوں کی معافی‏ ‏اور اپنے ساتھ انسان کی‏ ‏رفاقت بحال کرنے کے منصوبے کو ظاہر کیا ہے۔‏ ‏اس منصوبے کا کچھ حصہ اللہ تعالے نے‏ ‏حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ظاہر کیا۔‏ ‏ابراہیم اللہ پر ایمان لائے اور‏ ‏اس کی عبادت کرتے رہے۔‏ ‏پروردگار عالم نے حضرت ابراہیم کو‏ ‏برکت بخشنے‏ ‏اور ان کے وسیلے سے دنیا کی سب‏ ‏قوموں کو برکت دینے کا وعدہ کیا۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے یہ بھی وعدہ کیا کہ ابراہیم‏ ‏کی اولاد کو اتنا بڑھاؤں گا‏ ‏کہ ریت کے ذروں اور آسمان کے ستاروں کی‏ ‏مانند گننا مشکل ہو جائے گا۔‏ ‏ابراہیم نے اپنے رب کے وعدہ پر بھروسہ کیا۔‏ ‏اس وجہ سے اللہ تعالےٰ نے انہیں اپنے‏ ‏نیک بندوں میں شامل کیا‏ ‏اور انہیں خلیل اللہ کا لقب عطا فرمایا۔‏ ‏ایک دفعہ اللہ تعالےٰ نے حضرت ابراہیم کو‏ ‏آزمانے کے لئے ایک حکم دیا۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے آپ سے فرمایا‏ ‏کہ اپنے عزیز فرزند کو میری راہ میں‏ ‏قربان کردو۔‏ ‏حضرت ابراہیم جانتے تھے کہ‏ ‏اسی بیٹے سے میری نسل چلے گی،‏ ‏پھر بھِی انہوں نے رب کریم پر بھروسہ کیا‏ ‏اور اس کے حکم پر عمل کیا۔‏ ‏وہ اپنے بیٹے کو اللہ تعالےٰ کے حکم پر‏ ‏قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔‏ ‏لیکن جب حضرت ابراہیم نے چھری اٹھائی‏ ‏تو اللہ تعالےٰ نے فرمایا‏ ‏ابراہیم بچے کو نقصان نہ پہنچانا۔‏ ‏میں جانتا ہوں کہ تم میرا حکم مانتے‏ ‏اور ڈرتے ہو۔‏ ‏تب حضرت ابراہیم نے قریب ہی‏ ‏ایک مینڈھا دیکھا‏ ‏جس کے سینگ ایک جھاڑی میں پھنسے ہوئے تھے۔‏ ‏آپ نے اللہ تعالےٰ کی طرف سے‏ ‏مہیا کردہ مینڈھے کو‏ ‏اپنے بیٹے کے بدلے قربان کردیا۔‏ ‏خدائے کریم نے ابراہیم کے بیٹے کے بدلے میں‏ ‏مینڈھا قربان ہونے کے لئے مہیا کر کے‏ ‏انسانوں کے لئے اپنی‏ ‏عظیم محبت کا اظہار کیا۔‏ ‏ویسی ہی محبت جیسی ایک باپ اپنی‏ ‏اولاد سے کرتا ہے۔‏ ‏یہ واقعہ اللہ تعالےٰ کی طرف سے بنی نوع‏ ‏انسان کے گناہوں کی معافی کے لیے‏ ‏ایک قربانی کے انتظام کو ظاہر کرتا ہے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ نے فرمایا کہ وہ ایک معصوم‏ ‏شخصیت کو بھیجے گا‏ ‏کہ وہ نسل آدم کے گناہوں کے عوض قربان ہو‏ ‏اور باغِ عدن میں ہونے والی نا فرمانی کا‏ ‏احساسِ شرمندگی دور کردے۔‏ ‏وہ معصوم ہستی اس عظیم قربانی کے وسیلے سے‏ ‏ایمان لانے والوں کا رشتہ‏ ‏پروردگار سے جوڑ دے گا۔‏ ‏تاکہ انسان پھر سے اس کی قربت میں رہیں۔‏ ‏انبیائے کرام نے اس ہستی کو مسیحا کہہ کر‏ ‏مخاطب کیا ہے۔‏ ‏اللہ تعالےٰ اس مسیحا کو بھیجے گا‏ ‏کہ وہ لوگوں کو ان کے گناہوں سے نجات بخشے۔‏ ‏اور خدا کی نمائندگی کرنے والے کی‏ ‏حیثیت سے ان کا حاکم ہو۔‏ ‏آمد مسیحا سے کئی سو سال پہلے‏ ‏انبیاء نے فرمایا تھا‏ ‏کہ آنے والا مسیحا کیا کرے گا؟‏ ‏اور اس کے ساتھ کیا ہوگا؟‏ ‏داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ‏ ‏اللہ تعالےٰ مسیحا سے کہے گا‏ ‏"تم میرے فرزند ہو۔"‏ ‏آپ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ نعوذ باللہ‏ ‏وہ اللہ تعالےٰ کے جسمانی بیٹے ہوں گے‏ ‏کیونکہ کلام اللہ میں آیا ہے کہ‏ ‏وہ ازل سے کلمتہ اللہ ہیں۔‏ ‏آپ کی ولادت ایک کنواری بی بی‏ ‏حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے ہوگی۔‏ ‏انبیاء کرام نے جب "ابن اللہ" کی‏ ‏اصطلاح استعمال کی‏ ‏تو اس کے ذریعے انہوں نے اللہ تعالےٰ کے‏ ‏ساتھ مسیحا کے قریبی تعلق کو بیان کیا۔‏ ‏اوراس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ سب جہاں‏ ‏کے لوگوں کے گناہوں معاف کرنے والا ہے۔‏ ‏انبیائے کرام نے اس بات کی بھی پیش گوئی کی‏ ‏ایک کنواری بی بی امید سے ہونگی‏ ‏اور اُن سے بیٹا پیدا ہوگا۔‏ ‏انبیا کرام نے یہ بھی فرمایا‏ ‏کہ مسیحا کی ولادت بیت اللحم میں ہوگی۔‏ ‏مسیحا یروشلیم میں بادشاہ کی حیثیت سے‏ ‏داخل ہوں گے۔‏ ‏مسیحا کا قریبی ساتھی انہیں چاندی‏ ‏کے تیس سکوں کے عوض‏ ‏گرفتار کروا ڈالے گا۔‏ ‏حضرت داؤد نے فرمایا کہ‏ ‏مسیحا اپنی جان قربان کردیں گے‏ ‏مگر اللہ انہیں تیسرے دن پھر سے‏ ‏زندہ کرے گا۔‏ ‏حضرت دانیال نے مسیحا کو‏ ‏آدم زاد کہہ کر مخاطب کیا‏ ‏اور فرمایا کہ وہ بادلوں پر سوار‏ ‏ہو کر سب سے اونچے آسمان تک پہنچ جائیں گے‏ ‏جہاں پر اللہ تعالےٰ انہیں سارے جہان کے‏ ‏لوگوں پر اختیار بخشے گا۔‏ ‏دو ہزار برس پہلے ایک ہستی‏ ‏اس دنیا میں تشریف لائی‏ ‏جس کا اسم مبارک "عیسیٰ المسیح" تھا۔‏ ‏جنہیں یسوع المسیح بھی کہا جاتا ہے۔‏ ‏جب لوگوں نے ان کے حیرت انگیز کام دیکھے تو‏ ‏ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے‏ ‏"کیا یہی مسیحا ہیں؟"‏ ‏انبیائے کرام نے جو کچھ آنےوالے مسیحا‏ ‏کے متعلق فرمایا تھا‏ ‏کیا وہ سب کچھ ان کی‏ ‏زندگی میں پایا جاتا ہے؟‏ ‏اس فلم میں یہ دکھایا گیا ہے‏ ‏کہ انجیل شریف کے مطابق حضرت‏ ‏عیسیٰ المسیح کون ہیں۔‏ ‏آپ نے کیا کِیا اور کیا فرمایا۔‏ ‏اس فلم میں ایک شخص حضرت عیسیٰ المسیح کا‏ ‏کردار ادا کر رہا ہے۔‏ ‏یوں توانسان اس لائق نہیں‏ ‏لیکن یہ فلم اس لئے بنائی گئی ہے‏ ‏کہ لوگ مسیحا کی پاکیزہ زندگی کے‏ ‏متعلق جان سکیں‏ ‏اور وہ برکات حاصل کرسکیں‏ ‏جن کا وعدہ پروردگار عالم نےفرمایا ہے۔‏
JesusFilm